کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: جماعت کے لوگوں کا جنازے پر الگ الگ نماز پڑھنے کا بیان
حدیث نمبر: 6906
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ الْعُطَارِدِيُّ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ نُبَيْطٍ، عَنْ أَبِيهِ نُبَيْطِ بْنِ شَرِيطٍ الْأَشْجَعِيِّ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عُبَيْدٍ، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ الصُّفَّةِ، قَالَ: دَخَلَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ حِينَ مَاتَ، ثُمَّ خَرَجَ، فَقِيلَ لَهُ: تُوُفِّيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " نَعَمْ " فَعَلِمُوا أَنَّهُ كَمَا قَالَ قِيلَ: وَيُصَلَّى عَلَيْهِ وَكَيْفَ يُصَلَّى عَلَيْهِ، قَالَ: " يَجِيئُونَ عُصْبًا عُصْبًا فَيُصَلُّونَ " فَعَلِمُوا أَنَّهُ كَمَا قَالَ، فَقَالُوا: هَلْ يُدْفَنُ وَأَيْنَ؟ فَقَالَ " حَيْثُ قَبَضَ اللهُ رُوحَهَ فَإِنَّهُ لَمْ يَقْبِضِ اللهُ رُوحَهَ إِلَّا فِي مَكَانٍ طَيِّبٍ " فَعَلِمُوا أَنَّهُ كَمَا قَالَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا سالم بن عبید رضی اللہ عنہ جو اصحابِ صفہ میں سے تھے، بیان فرماتے ہیں کہ جب آپ ﷺ وفات پا گئے تو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لائے، پھر نکلے تو کہا گیا: کیا رسول اللہ ﷺ وفات پا گئے ہیں؟ تو انہوں نے کہا: ”ہاں۔“ تو سب نے یقین کر لیا کہ آپ ﷺ وفات پا گئے ہیں۔ پھر کہا گیا: آپ ﷺ کا جنازہ کیسے پڑھائیں گے؟ انہوں نے کہا: ”تھوڑے تھوڑے لوگ داخل ہوں گے اور درود پڑھیں گے۔“ اور لوگوں نے وہی جانا جو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا، پھر انہوں نے پوچھا: کیا دفن کیا جائے گا اور کب دفن کیا جائے گا؟ تو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اللہ نے جہاں ان کی روح قبض کی، اسی مکان میں دفن کیا جائے گا اور اللہ روح کو پاکیزہ جگہ میں ہی نکالتے ہیں۔“ تو لوگوں نے جان لیا کہ بات ایسے ہی ہے جیسے وہ فرما رہے ہیں۔
حدیث نمبر: 6907
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، وَأَبُو سَعِيدٍ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ⦗٤٩⦘ ثنا يُونُسُ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ الْعَبَّاسِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: " لَمَّا صُلِّيَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ أُدْخِلَ الرِّجَالُ فَصَلَّوْا عَلَيْهِ بِغَيْرِ إِمَامٍ إِرْسَالًا حَتَّى فَرَغُوا، ثُمَّ أُدْخِلَ النِّسَاءُ فَصَلَّيْنَ عَلَيْهِ، ثُمَّ أُدْخِلَ الصِّبْيَانُ فَصَلَّوْا عَلَيْهِ ثُمَّ أُدْخِلَ الْعَبِيدُ فَصَلَّوْا عَلَيْهِ إِرْسَالًا لَمْ يَؤُمَّهُمْ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ أَحَدٌ " قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَذَلِكَ لِعِظَمِ أَمْرِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ بِأَبِي هُوَ وَأُمِّي وَتَنَافُسِهِمْ فِي أَنْ لَا يَتَوَلَّى الْإِمَامَةَ فِي الصَّلَاةِ عَلَيْهِ وَاحِدٌ وَصَلَّوْا عَلَيْهِ مَرَّةً بَعْدَ مَرَّةٍ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ أَنْبَأَ الرَّبِيعُ، قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ: فَذَكَرَهُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: جب رسول اللہ ﷺ کے لیے دعا کی گئی تو لوگ تھوڑے تھوڑے داخل ہوتے اور بغیر امام کے اکیلے دعا کرتے، یہاں تک کہ وہ فارغ ہو گئے۔ پھر عورتیں داخل ہوئیں اور انھوں نے بھی آپ ﷺ پر درود بھیجا، پھر بچے داخل ہوئے اور انھوں نے درود پڑھا، پھر غلام داخل ہوئے اور انھوں نے بھی درود پڑھا اور رسول اللہ ﷺ کے جنازے کی کسی نے امامت نہ کروائی۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ آپ ﷺ کی عظمت کی بات تھی، میرے ماں باپ آپ ﷺ پر فدا ہوں، اور اس وجہ سے کہ لوگ اس بات میں نہ پڑیں کہ فلاں نے ایک مرتبہ نماز جنازہ پڑھی، بلکہ آپ ﷺ پر بار بار درود پڑھا گیا۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ آپ ﷺ کی عظمت کی بات تھی، میرے ماں باپ آپ ﷺ پر فدا ہوں، اور اس وجہ سے کہ لوگ اس بات میں نہ پڑیں کہ فلاں نے ایک مرتبہ نماز جنازہ پڑھی، بلکہ آپ ﷺ پر بار بار درود پڑھا گیا۔