السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنائز— کتاب الجنائز
باب: صلاة الجنازة بإمام وما يرجى للميت في كثرة من يصلي عليه باب: امام کے ساتھ نماز جنازہ پڑھنے اور نماز جنازہ پڑھنے والوں کی کثرت سے میت کے حق میں جو امید کی جاتی ہے اس کا بیان
حدیث نمبر: 6905
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ بِمُرْوٍ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، ثنا أَبُو الْأَزْهَرِ، ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ثنا أَبِي، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْحَاقَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ مَالِكِ بْنِ هُبَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ: " مَا صَلَّى ثَلَاثَةُ صُفُوفٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ عَلَى رَجُلٍ مُسْلِمٍ يَسْتَغْفِرُونَ لَهُ إِلَّا أَوْجَبَ " فَكَانَ مَالِكٌ إِذَا صَلَّى عَلَى جِنَازَةٍ يَعْنِي فَتَقَالَ أَهْلَهَا صَفَّهُمْ صُفُوفًا ثَلَاثَةً ثُمَّ يُصَلِّي عَلَيْهَا. لَفْظُ حَدِيثِ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ وَفِي رِوَايَةِ يَزِيدَ بْنِ هَارُونَ " إِلَّا غُفِرَ لَهُ ".حافظ ثناء اللہ
مالک بن ہبیرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کسی مسلمان کی نماز جنازہ مسلمانوں کی تین صفوں میں کھڑے ہونے والے پڑھتے ہیں اور اس کے لیے توبہ و استغفار کرتے ہیں تو اس پر جنت واجب ہو جاتی ہے۔“
چنانچہ مالک رضی اللہ عنہ جب کسی جنازے پر نماز پڑھتے اور جنازے والوں کو تھوڑا سمجھتے تو ان کی تین صفیں بنا دیتے، پھر اس پر نماز پڑھتے۔ یزید بن ہارون کی روایت میں ہے: ”مگر اسے بخش دیا جاتا ہے۔“