السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنائز— کتاب الجنائز
باب: صلاة الجنازة بإمام وما يرجى للميت في كثرة من يصلي عليه باب: امام کے ساتھ نماز جنازہ پڑھنے اور نماز جنازہ پڑھنے والوں کی کثرت سے میت کے حق میں جو امید کی جاتی ہے اس کا بیان
حدیث نمبر: 6904
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعٍ السَّكُونِيُّ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو صَخْرٍ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَمُوتُ فَيَقُومَ عَلَى جِنَازَتِهِ أَرْبَعُونَ رَجُلًا لَا يُشْرِكُونَ بِاللهِ شَيْئًا إِلَّا شُفِّعُوا فِيهِ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ هَارُونَ بْنِ سَعِيدٍ، وَالْوَلِيدِ بْنِ شُجَاعٍ، وَغَيْرِهِمَا.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: میں نے نبی کریم ﷺ سے سنا کہ ”جب کوئی مسلمان فوت ہوتا ہے اور اس کے جنازے میں چالیس افراد شامل ہوتے ہیں جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتے تو ان کی سفارش قبول کر لی جاتی ہے۔“