السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنائز— کتاب الجنائز
باب: صلاة الجنازة بإمام وما يرجى للميت في كثرة من يصلي عليه باب: امام کے ساتھ نماز جنازہ پڑھنے اور نماز جنازہ پڑھنے والوں کی کثرت سے میت کے حق میں جو امید کی جاتی ہے اس کا بیان
حدیث نمبر: 6901
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ: أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَاتَ الْيَوْمَ عَبْدٌ صَالِحٌ أَصْحَمَةُ، فَقُومُوا فَصَلُّوا عَلَيْهِ، فَقَامَ فَأَمَّنَا فَصَلَّيْنَا عَلَيْهِ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمٍ، عَنْ يَحْيَى الْقَطَّانِ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”آج کے دن ایک صالح بندہ اصحمہ فوت ہوا ہے جو بہت عمدہ تھا، لہٰذا تم کھڑے ہو جاؤ اور اس کا جنازہ پڑھو۔“ پھر آپ ﷺ کھڑے ہوئے اور ہماری امامت کی اور ہم نے ان پر نمازِ جنازہ پڑھی۔