أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَحمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، أنبأ شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي فَرْوَةَ الْجُهَنِيِّ، قَالَ سَمِعْتُ زَائِدَةَ يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ، وَعُمَرَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا كَانَا يَمْشِيَانِ أَمَامَ الْجِنَازَةِ وَكَانَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَمْشِي خَلْفَهَا، فَقِيلَ: لِعَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِنَّهُمَا يَمْشِيَانِ أَمَامَهَا، فَقَالَ: " إِنَّهُمَا يَعْلَمَانِ أَنَّ الْمَشْيَ خَلْفَهَا أَفْضَلُ مِنَ الْمَشْيِ أَمَامَهَا كَفَضْلِ صَلَاةِ الرَّجُلِ فِي جَمَاعَةٍ عَلَى صَلَاتِهِ فَذًّا وَلَكِنَّهُمَا سَهْلَانِ يَسْهُلَانِ لِلنَّاسِ " ⦗٣٩⦘ زَائِدَةُ هَذَا هُوَ ابْنُ خِرَاشٍ، وَقِيلَ ابْنُ أَوْسِ بْنِ خِرَاشٍ الْكِنْدِيُّ يَرْوِي عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى هَذَا الْحَدِيثَ، وَالْآثَارُ فِي الْمَشْيِ أَمَامَهَا أَصَحُّ وَأَكْثَرُ وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.عبد الرحمن بن ابزی رضی اللہ عنہ کے بیٹے اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما جنازے کے آگے چلا کرتے تھے اور علی رضی اللہ عنہ پیچھے چلا کرتے تھے، تو علی رضی اللہ عنہ سے کہا گیا: وہ دونوں (صدیق و فاروق رضی اللہ عنہما) جنازے کے آگے چلتے ہیں؟ تو انہوں نے کہا: وہ جانتے ہیں کہ پیچھے چلنا آگے چلنے سے افضل ہے جیسے باجماعت نماز اکیلے کی نماز سے افضل ہے، لیکن وہ لوگوں کے لیے آسانی پیدا کرتے ہیں۔
یہ زائدہ، ابن خراش ہیں، اور کہا گیا ہے کہ ابن اوس بن خراش کندی ہیں، جو یہ حدیث سعید بن عبدالرحمن بن ابزی سے روایت کرتے ہیں، اور جنازے کے آگے چلنے کے بارے میں آثار زیادہ صحیح اور زیادہ ہیں، وباللہ التوفیق۔