حدیث نمبر: 6867
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ جَنَاحُ بْنُ نُذُيْرِ بْنِ جَنَاحٍ الْمُحَارِبِيُّ بِالْكُوفَةِ، أنبأ أَبُو جَعْفَرِ بْنُ دُحَيْمٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ، أنبأ أَبُو غَسَّانَ، ثنا حَسَنُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ يَحْيَى الْجَابِرِ، عَنْ أَبِي مَاجِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ سَأَلْنَا نَبِيَّنَا صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ عَنِ السَّيْرِ بِالْجِنَازَةِ، فَقَالَ: " السَّيْرُ مَا دُونَ الْخَبَبِ إِنْ يَكُ خَيْرًا يُعَجَّلْ إِلَيْهِ وَإِنْ يَكُ سِوَى ذَلِكَ فَبُعْدًا لِأَهْلِ النَّارِ الْجِنَازَةُ مَتْبُوعَةٌ، وَلَا تَتْبَعُ لَيْسَ مَعَهَا مَنْ يَقْدَمُهَا "، أَبُو مَاجِدٍ مَجْهُولٌ، وَيَحْيَى الْجَابِرُ ضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ مِنْ أَهْلِ النَّقْلِ وَاللهُ أَعْلَمُ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ سے جنازے کے ساتھ چلنے کے بارے میں سوال کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ چلنا دوڑنے کے بغیر ہوگا۔ اگر وہ نیک ہے تو اسے جلد پہنچایا جائے گا اور اگر اس کے علاوہ ہے تو پھر جہنمیوں کے لیے دوری ہو، جنازے کی اتباع کی جاتی ہے، اسے پیچھے نہیں چلایا جاتا، اس کے ساتھ کوئی ایسا نہیں ہونا چاہیے جو اس کے آگے چلے۔“