السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنائز— کتاب الجنائز
باب: من كره شدة الإسراع بها مخافة انبجاسها باب: اس شخص کے قول کا بیان جس نے میت کے پھٹ جانے کے خوف سے جنازہ لے جانے میں بہت زیادہ تیزی کرنے کو مکروہ قرار دیا ہے
حدیث نمبر: 6851
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا زَائِدَةُ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلَيْهِ بِجِنَازَةٍ وَهُوَ يُسْرِعُ بِهَا وَهِيَ تُمْخَضُ مَخْضَ الزِّقِّ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ: " عَلَيْكُمْ بِالْقَصْدِ فِي الْمَشْيِ بِجَنَائِزِكُمْ " وَقَدْ رُوِّينَا عَنْ أَبِي مُوسَى أَنَّهُ أَوْصَى، فَقَالَ: إِذَا انْطَلَقْتُمْ بِجِنَازَتِي فَأَسْرِعُوا بِيَ الْمَشْيَ، وَفِي ذَلِكَ دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّ الْمُرَادَ بِمَا رُوِّينَا هَهُنَا إِنْ ثَبَتَ كَرَاهِيَةُ شِدَّةِ الْإِسْرَاعِ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کے پاس سے ایک جنازہ گزرا اور لوگ اسے (تیزی کی وجہ سے) اس طرح حرکت دے رہے تھے جیسے مشکیزے کو ہلایا جاتا ہے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اپنے جنازوں کے ساتھ چلنے میں میانہ روی کو لازم پکڑو۔“
سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے وصیت کی کہ جب تم میرے جنازے کے ساتھ چلو تو چلنے میں تیزی اختیار کرنا۔ اس میں یہ دلیل ہے کہ اس سے مراد شدت سے نہ چلنا ہے۔