حدیث نمبر: 6818
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيُّ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ، أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي مَسِيرِهِ إِلَى خَيْبَرَ لِعَامِرِ بْنِ الْأَكْوَعِ وَكَانَ اسْمُ الْأَكْوَعِ سِنَانًا: " انْزِلْ يَا ابْنَ الْأَكْوَعِ فَاحْدُ لَنَا مِنْ هَنَاتِكَ فَنَزَلَ يَرْتَجِزُ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ، وَيَقُولُ:.
حافظ ثناء اللہ

ابو الہیثم رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ بیشک ان کے باپ نے حدیث بیان کی کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا جو آپ ﷺ نے خیبر کی طرف جاتے ہوئے عامر بن اکوع رضی اللہ عنہ کو فرمایا اور اکوع کا نام سنان ہے: ”اے ابن اکوع! اتر اور ہمارے لیے اپنی آواز میں حدی کر۔“ سو وہ اترے اور رسول اللہ ﷺ کے بارے میں اشعار کہنے لگے کہ اللہ کی قسم! اگر آپ ﷺ نہ ہوتے تو ہم ہدایت نہ پاتے۔ نہ ہم صدقہ کرتے اور نہ نماز پڑھتے۔ سو تو ہم پر سکینہ نازل فرما۔ اگر ہم دشمن سے ملیں تو ہمیں ثابت قدم فرما۔ بیشک کافروں کی اولاد نے ہمارے ساتھ بغاوت کی ہے، اگر وہ ہم سے شرک و کفر کی امید رکھتے ہیں تو ہم اس کے انکاری ہیں۔
رسول کریم ﷺ نے فرمایا: ”تجھ پر تیرا رب رحم کرے۔“ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: اس پر واجب ہوگئی۔ اللہ کی قسم! اگر آپ ہمیں ان سے استفادہ کرنے دیتے۔ سو وہ غزوہ خیبر میں شہید کر دیے گئے، جو بات ہم تک پہنچی ہے تو وہ ان کی شہادت اس سے ہوئی کہ ان کی تلوار ہی ان کی طرف پلٹی اور انہیں شدید زخمی کر دیا اور وہ لڑائی کرتے رہے حتیٰ کہ وہ فوت ہو گئے اور مسلمان ان کے متعلق شک میں پڑ گئے کہ انہیں ان کے اسلحہ ہی نے قتل کیا ہے۔ اس وجہ سے ان کے بھتیجے سلمہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا اور آپ ﷺ کو لوگوں کی بات سے آگاہ کیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”وہ شہید ہے۔“ سو آپ ﷺ اور صحابہ رضی اللہ عنہم نے نماز جنازہ ادا کی۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنائز / حدیث: 6818
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ أخرجه ابن اسحاق»