حدیث نمبر: 6817
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْمُحَمَّدَ آبَاذِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عِكْرِمَةُ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَمَّارٍ، أَخْبَرَنِي شَدَّادُ بْنُ الْهَادِ، أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَعْرَابِ جَاءَ النَّبِيَّ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ فَآمَنَ وَاتَّبَعَهُ فَقَالَ: أُهَاجِرُ مَعَكَ فَأَوْصَى بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ بَعْضَ أَصْحَابِهِ، فَلَمَّا كَانَتْ غَزْوَةُ خَيْبَرَ غَنِمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا فَقَسَمَ وَقَسَمَ لَهُ، فَأَعْطَى أَصْحَابَهَ مَا قَسَمَ لَهُ وَكَانَ يَرْعَى ظَهْرَهَمْ، فَلَمَّا جَاءَ دَفَعُوهُ إِلَيْهِ، فَقَالَ: مَا هَذَا؟ قَالَ: قَسْمٌ قَسَمَهُ لَكَ فَأَخَذَهُ فَجَاءَ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: مَا هَذَا يَا مُحَمَّدُ؟ قَالَ: " قَسْمٌ قَسَمْتُهُ لَكَ "، قَالَ: مَا عَلَى هَذَا اتَّبَعْتُكَ وَلَكِنِ اتَّبَعْتُكَ عَلَى أَنْ أُرْمَى هَهُنَا وَأَشَارَ إِلَى حَلْقِهِ بِسَهْمٍ فَأَمُوتَ فَأَدْخُلَ الْجَنَّةَ، فَقَالَ: " إِنْ تَصَدُقِ اللهَ يَصْدُقْكَ "، ثُمَّ ⦗٢٤⦘ نَهَضُوا إِلَى قِتَالِ الْعَدُوِّ فَأُتِيَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ يُحْمَلُ وَقَدْ أَصَابَهُ سَهْمٌ حَيْثُ أَشَارَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ: " هُوَ هُوَ؟ " قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: " صَدَقَ اللهَ فَصَدَقَهُ "، فَكَفَّنَهُ النَّبِيُّ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ فِي جُبَّتِهِ، ثُمَّ قَدَّمَهُ وَصَلَّى عَلَيْهِ، فَكَانَ مِمَّا ظَهَرَ مِنْ صَلَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ: " اللهُمَّ هَذَا عَبْدُكَ خَرَجَ مُهَاجِرًا فِي سَبِيلِكَ، قُتِلَ شَهِيدًا، أَنَا عَلَيْهِ شَهِيدٌ " قَالَ عَطَاءٌ: " وَزَعَمُوا أَنَّهُ لَمْ يُصَلِّ عَلَى أَهْلِ أُحُدٍ " قَالَ الشَّيْخُ: ابْنُ جُرَيْجٍ يَذْكُرُهُ، عَنْ عَطَاءٍ وَيُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ هَذَا الرَّجُلُ بَقِيَ حَيًّا حَتَّى انْقَطَعَتِ الْحَرْبُ، ثُمَّ مَاتَ فَصَلَّى عَلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ وَالَّذِينَ لَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِمْ بِأُحُدٍ مَاتُوا قَبْلَ انْقِضَاءِ الْحَرْبِ وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا شداد بن ہاد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ دیہاتیوں میں سے ایک آدمی نبی کریم ﷺ کے پاس آیا۔ وہ ایمان لایا اور آپ ﷺ کی اتباع کی اور اس نے کہا کہ میں آپ ﷺ کے ساتھ ہجرت کروں گا، تو آپ ﷺ نے اس کے متعلق اپنے بعض صحابہ رضی اللہ عنہم کو وصیت کی۔ سو جب غزوہ خیبر ہوا تو رسول اللہ ﷺ کو غنیمت کا مال ملا تو آپ ﷺ نے اسے تقسیم کیا اور اس کے لیے بھی تقسیم کی اور اس کا حصہ صحابہ رضی اللہ عنہم کو دیا اور وہ ان کے بعد ان کی حفاظت کیا کرتا تھا۔ سو جب وہ آیا تو صحابہ رضی اللہ عنہم نے وہ حصہ اسے دیا تو اس نے کہا کہ یہ کیا ہے؟ تو صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا کہ یہ تقسیم کا مال ہے جو آپ ﷺ نے تیرے لیے تقسیم کیا ہے۔ اس نے وہ لیا اور نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور اس نے کہا کہ کیوں نہ مجھے حلق میں تیر مارا گیا، وہ مجھے مار دیتا اور میں جنت میں داخل ہو جاتا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”«إِنْ تَصْدُقِ اللهَ يَصْدُقْكَ» اگر تو نے اللہ کی تصدیق کی ہے تو وہ تیری تصدیق کرے گا۔“ پھر وہ دشمن سے لڑنے کے لیے آئے، پھر اسے نبی کریم ﷺ کے پاس اٹھا کر لایا گیا اور اسے تیر وہیں لگا تھا جہاں اس نے حلق کی طرف اشارہ کیا تھا، تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”یہ وہی ہے؟“ تو صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا کہ جی ہاں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس نے اللہ کی تصدیق کی اور اللہ تعالیٰ نے اسے سچا ثابت کر دیا۔“ تو آپ ﷺ نے اسے اس کے لباس میں ہی کفن دیا۔ پھر اسے آگے کیا اور آپ ﷺ نے اس کی نماز جنازہ پڑھی اور یہ ان میں سے ہے جن کے لیے نماز جنازہ میں واضح دعا کی: «اللّٰهُمَّ هٰذَا عَبْدُكَ، خَرَجَ مُهَاجِرًا فِي سَبِيْلِكَ، فَقُتِلَ شَهِيْدًا، أَنَا شَهِيْدٌ عَلَى ذٰلِكَ» ”اے اللہ! یہ تیرا بندہ ہے اور تیری راہ میں مہاجر بن کر نکلا ہے اور یہ شہادت کی موت مرا ہے اور میں اس پر گواہ ہوں۔“
عطاء کہتے ہیں کہ ان کا خیال ہے کہ آپ ﷺ نے احد والوں کا جنازہ نہیں پڑھا۔ شیخ کہتے ہیں کہ عطاء نے کہا کہ اس بات کا احتمال ہے کہ یہ شخص جنگ کے ختم ہونے تک زندہ رہا ہو، پھر وہ فوت ہوا تو آپ ﷺ نے اس کا جنازہ پڑھا اور جو پہلے فوت ہوئے ان کا جنازہ نہیں پڑھا۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنائز / حدیث: 6817
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن۔ نسائي»