السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنائز— کتاب الجنائز
باب: من استحب أن يكفن في ثيابه التي قتل فيها بعد أن ينزع عنه الحديد والجلود وما لم يكن من عام لبوس الناس باب: اس شخص کے قول کا بیان جس نے یہ مستحب قرار دیا ہے کہ شہید کو انہی کپڑوں میں کفنایا جائے جن میں اسے شہید کیا گیا البتہ اس کے جسم سے لوہا، چمڑا اور وہ چیزیں اتار لی جائیں گی جو لوگوں کا عام لباس نہیں ہوتیں
حدیث نمبر: 6813
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ شَوْذَبٍ الْمُقْرِئُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الدَّقِيقِيُّ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، أنبأ أَبِي، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: أُتِيَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بِطَعَامٍ فَقَالَ: " قُتِلَ مُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرِ بْنِ هَاشِمٍ فَلَمْ يُوجَدْ مَا يُكَفَّنُ فِيهِ إِلَّا بُرْدَةٌ، وَكَانَ خَيْرًا مِنِّي، وَقُتِلَ حَمْزَةُ، أَوْ رَجُلٌ آخَرُ فَلَمْ يُوجَدْ مَا يُكَفَّنُ فِيهِ إِلَّا بُرْدَةٌ " أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ، عَنْ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ.حافظ ثناء اللہ
یعقوب بن ابراہیم بن سعد اپنے باپ سے اور وہ اپنے دادا سے بیان کرتے ہیں کہ عبدالرحمن رضی اللہ عنہ کے پاس کھانا لایا گیا تو انہوں نے کہا: مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ قتل کیے گئے تو کوئی چیز نہ پائی گئی کہ جس میں انہیں کفن دیا جاتا، سوائے ایک چادر کے اور وہ مجھ سے بہتر تھے اور حمزہ رضی اللہ عنہ شہید کیے گئے اور کوئی ایسی چیز نہ پائی گئی جس میں انہیں کفن دیا جاتا سوائے ایک چادر کے۔