السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنائز— کتاب الجنائز
باب: من استحب أن يكفن في ثيابه التي قتل فيها بعد أن ينزع عنه الحديد والجلود وما لم يكن من عام لبوس الناس باب: اس شخص کے قول کا بیان جس نے یہ مستحب قرار دیا ہے کہ شہید کو انہی کپڑوں میں کفنایا جائے جن میں اسے شہید کیا گیا البتہ اس کے جسم سے لوہا، چمڑا اور وہ چیزیں اتار لی جائیں گی جو لوگوں کا عام لباس نہیں ہوتیں
حدیث نمبر: 6812
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنُ الْفَضْلِ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ، أنبأ عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: " أَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: بِقَتْلَى أُحُدٍ أَنْ يُنْزَعَ عَنْهُمُ الْحَدِيدُ وَالْجُلُودُ، وَأَنْ يُدْفَنُوا بِدِمَائِهِمْ وَثِيَابِهِمْ " وَقَدْ مَضَى فِي الرُّخْصَةِ فِي تَكْفِينِهِ فِي غَيْرِ ثِيَابِهِ الَّتِي قُتِلَ فِيهَا حَدِيثُ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، وَمُصْعَبِ بْنِ عُمَيْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا.حافظ ثناء اللہ
سعید بن جبیر سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے شہدائے احد کے بارے میں حکم دیا کہ ”ان سے لوہا اور چمڑا اتار لیا جائے اور انھیں ان کے کپڑوں اور خون سمیت دفن کیا جائے۔“