حدیث نمبر: 6799
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْقَطَّانُ، ثنا أَبُو الْأَزْهَرِ، ثنا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ الْقَطَوَانِيُّ، حَدَّثَنَاهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنِيَ الزُّهْرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَوْمَ أُحُدٍ: " مَنْ رَأَى مَقْتَلَ حَمْزَةَ؟ " فَقَالَ رَجُلٌ أَعْزَلُ: أَنَا رَأَيْتُ مَقْتَلَهُ، قَالَ: " فَانْطَلِقْ فَأَرِنَاهُ "، فَخَرَجَ حَتَّى وَقَفَ عَلَى حَمْزَةَ فَرَآهُ قَدْ شُقَّ بَطْنُهُ وَقَدْ مُثِّلَ بِهِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ قَدْ مُثِّلَ بِهِ وَاللهِ، فَكَرِهَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَنْظُرَ إِلَيْهِ، ثُمَّ وَقَفَ بَيْنَ ظَهْرَيِ الْقَتْلَى، فَقَالَ: " أَنَا شَهِيدٌ عَلَى هَؤُلَاءِ لُفُّوهُمْ فِي دِمَائِهِمْ، فَإِنَّهُ لَيْسَ جَرِيحٌ يُجْرَحُ إِلَّا جَاءَ وَجُرْحُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَدْمَى، لَوْنُهُ لَوْنُ الدَّمِ، وَرِيحُهُ رِيحُ الْمِسْكِ "، فَقَالَ: " قَدِّمُوا أَكْثَرَ الْقَوْمِ قُرْآنًا فَاجْعَلُوا فِي اللَّحْدِ " وَفِي هَذَا زِيَادَاتٌ لَيْسَتْ فِي رِوَايَةِ اللَّيْثِ، وَفِي رِوَايَةِ اللَّيْثِ زِيَادَةٌ لَيْسَتْ فِي هَذِهِ الرِّوَايَةِ، فَيُحْتَمَلُ أَنْ تَكُونَ رِوَايَتُهُ عَنْهُ، عَنْ جَابِرٍ، وَعَنْهُ عَنْ أَبِيهِ صَحِيحَتَيْنِ وَإِنْ كَانَتَا مُخْتَلِفَتَيْنِ فَاللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ رَحِمَهُ اللهُ إِمَامٌ حَافِظٌ فَرِوَايَتُهُ أَوْلَى وَاللهُ أَعْلَمُ، وَقِيلَ عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ ابْنِ أَبِي صُعَيْرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا مُخْتَصَرًا.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے یومِ احد کو فرمایا: ”کسی نے مقتلِ حمزہ کو دیکھا ہے؟“ ایک آدمی نے کہا: میں نے انہیں پایا ہے اور میں ان کے مقتل کو جانتا ہوں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”پھر تو چل اور ہمیں دکھا۔“ پھر وہ نکلا حتیٰ کہ وہ سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کے پاس جا رکا۔ انہیں دیکھا تو ان کا پیٹ چیرا ہوا تھا اور مثلہ کیا گیا تھا، تو اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! ان کا تو مثلہ کیا گیا ہے۔ اللہ کی قسم! اس حالت میں دیکھنے کو آپ ﷺ نے ناپسند فرمایا۔ پھر آپ ﷺ مقتولین میں کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”میں ان سب پر گواہ ہوں۔ انھیں ان کے خون سمیت لپیٹ دو۔ بیشک کوئی زخمی ایسا نہیں جو قیامت کے دن لایا جائے گا مگر اس کا زخم خون بہا رہا ہوگا، اس کا رنگ تو خون کا ہوگا مگر خوشبو کستوری کی ہوگی۔“ اور آپ ﷺ نے فرمایا: ”لحد میں اسے آگے کرو جو زیادہ قرآن جاننے والا ہے۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنائز / حدیث: 6799
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ ابن ابي شيبه»