السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنائز— کتاب الجنائز
جماع أبواب الشهيد ومن يصلي عليه ويغسل -- باب: المسلمين يقتلهم المشركون في المعترك فلا يغسل القتلى ولا يصلى عليهم ويدفنون بكلومهم ودمائهم باب: شہید اور ان لوگوں کے ابواب کا مجموعہ جن کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی اور انہیں غسل دیا جائے گا -- باب: ان مسلمانوں کا بیان جنہیں مشرکین میدانِ جنگ میں شہید کر دیں تو ان مقتولین کو نہ غسل دیا جائے گا، نہ ان پر نماز جنازہ پڑھی جائے گی اور انہیں ان کے زخموں اور خون سمیت دفن کر دیا جائے گا
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْعَدْلُ، بِبَغْدَادَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ رَوْحٍ الْمَدَائِنِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، قَالَ: وَأَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَاضِي، بِمَرْوٍ، ثنا الْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ، ثنا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، قَالَا: ثَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ أُحُدٍ مَرَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ بِحَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَقَدْ جُدِعَ وَمُثِّلَ بِهِ، فَقَالَ: " لَوْلَا أَنْ تَجِدَ صَفِيَّةُ تَرَكْتُهُ حَتَّى يَحْشُرَهُ اللهُ مِنْ بُطُونِ الطَّيْرِ وَالسِّبَاعِ "، فَكَفَّنَهُ فِي نَمِرَةٍ إِذَا خُمِّرَ رَأْسُهُ بَدَتْ رِجْلَاهُ وَإِذَا خُمِّرَ رِجْلَاهُ بَدَا رَأْسُهُ فَخَمَّرَ رَأْسَهُ، وَلَمْ يُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِنَ الشُّهَدَاءِ غَيْرَهُ، ثُمَّ قَالَ: " أَنَا شَهِيدٌ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ "، وَكَانَ يَجْمَعُ الثَّلَاثَةَ وَالِاثْنَيْنِ فِي قَبْرٍ وَاحِدٍ وَيَسْأَلُ أَيُّهُمْ أَكْثَرُ قُرْآنًا فَيُقَدِّمُهُ فِي اللَّحْدِ، وَكَفَّنَ الرَّجُلَيْنِ وَالثَّلَاثَةَ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أَنْبَأَ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، قَالَ: هَذِهِ اللَّفْظَةُ " وَلَمْ يُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِنَ الشُّهَدَاءِ غَيْرَهُ " لَيْسَتْ مَحْفُوظَةً، قَالَ أَبُو عِيسَى التِّرْمِذِيُّ فِي كِتَابِ الْعِلَلِ: سَأَلْتُ مُحَمَّدًا يَعْنِي الْبُخَارِيَّ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ يَعْنِي إِسْنَادَهُ، فَقَالَ: حَدِيثُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ هُوَ حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَحَدِيثُ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ هُوَ غَيْرُ مَحْفُوظٍ، غَلِطَ فِيهِ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ⦗١٧⦘ قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ قِيلَ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبٍ عَنْ أَبِيهِ.سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب غزوہ احد ہوا تو آپ ﷺ سیدنا حمزہ بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے۔ انہیں کاٹا گیا اور ان کا مثلہ کیا گیا تھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر (ان کی) پھوپھی صفیہ رضی اللہ عنہا نے (انہیں اس حال میں) نہ دیکھا ہوتا تو میں اسے یوں ہی چھوڑ دیتا حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ اسے پرندوں اور درندوں کے پیٹوں سے اکٹھا کرتا۔“ پھر انہیں ایک ٹاٹ میں کفن دیا گیا جس سے سر ڈھانپا جاتا تو پاؤں ظاہر ہو جاتے اور جب پاؤں ڈھانپے جاتے تو سر ننگا ہو جاتا، تو پھر ان کا سر ڈھانپ دیا گیا اور تمام شہدا میں سے کسی کی نماز جنازہ نہ پڑھی گئی۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں آج کے دن تم پر گواہ ہوں۔“ اور آپ ﷺ ایک ہی قبر میں دو دو، تین تین کو جمع کر رہے تھے اور آپ ﷺ پوچھتے کہ: ”قرآن زیادہ جاننے والا کون ہے؟“ سو اسے لحد میں پہلے اتارا جاتا اور دو تین آدمیوں کو ایک ہی کفن میں جمع کیا گیا۔
علی بن عمر حافظ رحمہ اللہ کہتے ہیں: بات ایسے ہی ہے کہ آپ ﷺ نے (شہدا میں سے) کسی کا جنازہ نہیں پڑھا۔ ابو عیسیٰ رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے اس کے بارے میں امام بخاری رحمہ اللہ سے پوچھا تو انہوں نے کہا: سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کی حدیث حسن ہے اور اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کی حدیث غیر محفوظ ہے۔