السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنائز— کتاب الجنائز
باب: ما يستحب من اتساع القبر وإعماقه باب: قبر کو کشادہ اور گہرا کرنے کے مستحب ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 6752
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا ابْنُ عُثْمَانَ يَعْنِي عَبْدَانَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ، أنبأ سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، فَذَكَرَ إِسْنَادَهُ نَحْوَهُ. قَالَ: أَصَابَ الْأَنْصَارَ يَوْمَ أُحُدٍ قَرْحٌ وَجَهْدٌ، فَقَالَتِ الْأَنْصَارُ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَصَابَنَا قَرْحٌ وَجَهْدٌ، فَكَيْفَ تَأْمُرُنَا؟ قَالَ: " احْفِرُوا وَأَوْسِعُوا ". قَالَ عَبْدُ اللهِ: وَأُرَاهُ قَالَ: " وَأَعْمِقُوا "، ثُمَّ قَالَ عَبْدُ اللهِ: بَلْ هُوَ هَكَذَا.حافظ ثناء اللہ
سلیمان بن مغیرہ کہتے ہیں: غزوۂ احد میں انصار کو زخم بھی پہنچے اور مشقت بھی کرنی پڑی۔ انصاریوں نے یہ بات پیارے پیغمبر ﷺ کو بیان کی اور کہا کہ آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”قبریں کشادہ بناؤ۔“ عبداللہ کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”انہیں گہری کرو۔“ پھر عبداللہ نے کہا: بلکہ وہ بات ایسے ہی تھی۔