السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنائز— کتاب الجنائز
باب: ما يستحب من اتساع القبر وإعماقه باب: قبر کو کشادہ اور گہرا کرنے کے مستحب ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 6751
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ، ثنا الْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ، ثنا أَبُو النَّضْرِ، ثنا سُلَيْمَانُ هُوَ ابْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ حُمَيْدٍ يَعْنِي ابْنَ هِلَالٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: جَاءَتِ الْأَنْصَارُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، أَصَابَنَا قَرْحٌ وَجَهْدٌ، فَكَيْفَ تَأْمُرُ؟ قَالَ: " احْفِرُوا، وَأَوْسِعُوا، وَاجْعَلُوا الرَّجُلَيْنِ وَالثَّلَاثَةَ فِي الْقَبْرِ " قَالُوا: أَيُّهُمْ يُقَدَّمُ فِي الْقَبْرِ؟ قَالَ: " أَكْثَرَهُمْ قُرْآنًا " قَالَ: فَقُدِّمَ أَبِي بَيْنَ يَدَيِ اثْنَيْنِ، أَوْ قَالَ: " وَاحِدٍ "..حافظ ثناء اللہ
ہشام بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انصار رسول اللہ ﷺ کے پاس احد کے دن آئے اور کہنے لگے: یا رسول اللہ! ہمیں زخم پہنچے اور مشقت بھی۔ سو آپ ہمیں کیا حکم فرماتے ہیں؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”گہرے اور کشادہ کھودو اور دو اور تین آدمیوں کو ایک قبر میں دفن کرو۔“ میں نے کہا: قبر میں پہلے کسے رکھیں؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”جسے قرآن زیادہ یاد ہو۔“ وہ کہتے ہیں: میرے باپ کو دو یا ایک آدمی سے مقدم کیا گیا ہے۔