السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنائز— کتاب الجنائز
باب: رش الماء على القبر ووضع الحصباء عليه باب: قبر پر پانی چھڑکنے اور اس پر کنکریاں ڈالنے کا بیان
حدیث نمبر: 6741
وَفِيمَا ذَكَرَ أَبُو دَاوُدَ فِي الْمَرَاسِيلِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُسْلِمٍ، وَغَيْرِهِ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ: " أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَشَّ عَلَى قَبْرِ إِبْرَاهِيمَ وَأَنَّهُ أَوَّلُ قَبْرٍ رُشَّ عَلَيْهِ، وَأَنَّهُ قَالَ حِينَ دَفَنَ وَفَرَغَ مِنْهُ: " سَلَامٌ عَلَيْكُمْ "، وَلَا أَعْلَمُهُ إِلَّا قَالَ: حَثَا عَلَيْهِ بِيَدِهِ ". أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرٍ، أنبأ الْفَسَوِيُّ، ثنا اللُّؤْلُؤِيُّ، ثنا أَبُو دَاوُدَ فَذَكَرَهُ.حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن محمد بن عمر رحمہ اللہ اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ بیشک رسول اللہ ﷺ نے ابراہیم رضی اللہ عنہ کی قبر پر پانی چھڑکا اور وہ پہلی قبر تھی جس پر پانی چھڑکا گیا اور جب اس کے دفن سے فارغ ہوئے تو فرمایا: «سَلَامٌ عَلَيْكُمْ» ”تم پر سلامتی ہو“ اور میں نہیں جانتا اس کے سوا کہ انہوں نے اس پر ہاتھوں سے مٹی ڈالی۔