السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنائز— کتاب الجنائز
باب: رش الماء على القبر ووضع الحصباء عليه باب: قبر پر پانی چھڑکنے اور اس پر کنکریاں ڈالنے کا بیان
حدیث نمبر: 6740
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَغَيْرُهُ قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ ⦗٥٧٧⦘ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ: " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَشَّ عَلَى قَبْرِ إِبْرَاهِيمَ ابْنِهِ، وَوَضَعَ عَلَيْهِ حَصْبَاءَ ". قَالَ الشَّافِعِيُّ: " وَالْحَصْبَاءُ لَا تَثْبُتُ إِلَّا عَلَى قَبْرٍ مُسَطَّحٍ ".حافظ ثناء اللہ
جعفر بن محمد اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے ابراہیم (بیٹے) کی قبر پر پانی چھڑکا اور اس پر کنکریاں ڈالیں۔ شافعی رحمہ اللہ کہتے ہیں: سنگریزے صرف برابر قبر پر ہی ٹھہر سکتے ہیں۔