السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنائز— کتاب الجنائز
باب: رش الماء على القبر ووضع الحصباء عليه باب: قبر پر پانی چھڑکنے اور اس پر کنکریاں ڈالنے کا بیان
حدیث نمبر: 6742
وَأنبأنِي أَبُو عَبْدِ اللهِ، إِجَازَةً أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ، إِجَازَةً ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا عَبْدُ بْنُ عُمَرَ الْجُعْفِيُّ، ثنا الدَّرَاوَرْدِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ: " أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَشَّ عَلَى قَبْرِ ابْنِهِ " قَالَ: وَلَا أَعْلَمُهُ إِلَّا قَالَ: " وَحَثَا عَلَيْهِ بِيَدِهِ ".حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن محمد بن عمر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ان کے باپ رحمہ اللہ نے کہا: بیشک رسول اللہ ﷺ نے اپنے بیٹے کی قبر پر پانی چھڑکا، اور وہ کہتے ہیں: اس کے سوا میں نہیں جانتا مگر یہ کہ اپنے ہاتھوں سے اس پر مٹی بھی ڈالی۔