السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنائز— کتاب الجنائز
باب: إهالة التراب في القبر بالمساحي وبالأيدي باب: پھاوڑوں اور ہاتھوں کے ذریعے قبر میں مٹی ڈالنے کا بیان
حدیث نمبر: 6734
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُثْمَانَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ: أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ لَمَّا دَفَنَ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ حَثَا عَلَيْهِ التُّرَابَ، ثُمَّ قَالَ: " هَكَذَا يُدْفَنُ الْعِلْمُ ". فَحَدَّثْتُ بِهِ عَلِيَّ بْنَ الْحُسَيْنِ، فَقَالَ: " وَابْنُ عَبَّاسٍ وَاللهِ لَقَدْ دُفِنَ بِهِ عِلْمٌ كَثِيرٌ ".حافظ ثناء اللہ
علی بن زید بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے جب سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کو دفن کیا اور ان کی قبر پر مٹی ڈالی، پھر انہوں نے کہا: یوں علم دفن کیا جاتا ہے، تو میں نے یہ بات علی بن حسین رحمہ اللہ کو بیان کی تو انہوں نے کہا: سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما تو اللہ کی قسم! کمال ہیں، اللہ کی قسم! ان کے ساتھ بہت سا علم دفن کر دیا گیا۔