السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنائز— کتاب الجنائز
باب: الدخول على الميت وتقبيله باب: میت کے پاس جانے اور اسے چومنے کا بیان
حدیث نمبر: 6712
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ الثَّوْرِيُّ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ وَهُوَ مَيِّتٌ فَكَشَفَ عَنْ وَجْهِهِ ثُمَّ أَكَبَّ عَلَيْهِ فَقَبَّلَهُ وَبَكَى، حَتَّى رَأَيْتُ الدُّمُوعَ تَسِيلُ عَلَى وَجْنَتَيْهِ ".حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور وہ فوت ہوچکے تھے، تو آپ ﷺ نے ان کے چہرے سے کپڑا ہٹایا، پھر آپ ﷺ ان پر جھک گئے اور انہیں بوسہ دیا اور آپ ﷺ رو دیے یہاں تک کہ میں نے دیکھا کہ آپ ﷺ کے آنسو رخساروں پر بہہ رہے تھے۔