السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنائز— کتاب الجنائز
باب: الدخول على الميت وتقبيله باب: میت کے پاس جانے اور اسے چومنے کا بیان
حدیث نمبر: 6713
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا ⦗٥٧١⦘ الْبَاغِنْدِيُّ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ يَقُولُ: " لَمَّا قُتِلَ أَبِي يَوْمَ أُحُدٍ فَجَعَلْتُ أَبْكِي وَأَكْشِفُ الثَّوْبَ عَنْ وَجْهِهِ، وَجَعَلَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَوْنِي عَنْ ذَلِكَ، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَنْهَانِي عَنْ ذَلِكَ، وَجَعَلَتْ عَمَّتِي تَبْكِي، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَبْكِي أَوْ مَا يُبْكِيكِ؟ مَا زَالَتِ الْمَلَائِكَةُ تُظِلُّهُ بِأَجْنِحَتِهَا حَتَّى رَفَعُوهُ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الْوَلِيدِ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ، مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ شُعْبَةَ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ جب میرے والد غزوہ احد میں فوت ہو گئے تو میں ان کے چہرے سے کپڑا ہٹا رہا تھا اور رو رہا تھا۔ نبی کریم ﷺ کے صحابہ رضی اللہ عنہم مجھے اس سے منع کرتے تھے اور آپ ﷺ مجھے منع نہیں کرتے تھے اور میری پھوپھی رو رہی تھیں تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تو نہ رو، یا فرمایا: تجھے کیا چیز رلا رہی ہے؟ فرشتے اس پر اپنے پروں سے سایہ کیے ہوئے تھے حتیٰ کہ انہوں نے اپنے پر ہٹا لیے ہیں۔“