حدیث نمبر: 6711
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا ابْنُ مِلْحَانَ، ثنا يَحْيَى، عَنِ اللَّيْثِ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّهُ قَالَ: أَخْبَرَنِي خَارِجَةُ بْنُ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيُّ: أَنَّ أُمَّ الْعَلَاءِ امْرَأَةٌ مِنَ الْأَنْصَارِ قَدْ بَايَعَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ: " أَنَّهُمُ اقْتَسَمُوا الْمُهَاجِرِينَ قُرْعَةً، يَعْنِي فَطَارَ لَنَا عُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ أَنْزَلْنَاهُ فِي أَبْيَاتِنَا، فَوُجِعَ وَجَعَهُ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ، فَلَمَّا تُوُفِّيَ وَغُسِّلَ وَكُفِّنَ فِي ثَلَاثٍ دَخَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: فَقُلْتُ: رَحْمَةُ اللهِ عَلَيْكَ أَبَا السَّائِبِ، شَهَادَتِي عَلَيْكَ لَقَدْ أَكْرَمَكَ اللهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَمَا يُدْرِيكِ أَنَّ اللهَ أَكْرَمَهُ؟ " قُلْتُ: بِأَبِي أَنْتَ يَا رَسُولَ اللهِ، فَمَنْ أَكْرَمَهُ اللهُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَمَّا هُوَ فَوَاللهِ لَقَدْ جَاءَهُ الْيَقِينُ، وَاللهِ إِنِّي لَأَرْجُو لَهُ الْخَيْرَ، وَاللهِ مَا أَدْرِي وَأَنَا رَسُولُ اللهِ مَاذَا يُفْعَلُ بِي؟ فَقَالَتْ: وَاللهِ إِنِّي لَا أُزَكِّي أَحَدًا بَعْدَهُ أَبَدًا ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ بُكَيْرٍ وَقَالَ: وَكُفِّنَ فِي أَثْوَابِهِ، وَفِي آخِرِهِ قَالَتْ: " فَوَاللهِ لَا أُزَكِّي بَعْدَهُ أَبَدًا "، قَالَ الْبُخَارِيُّ: فَقَالَ نَافِعُ بْنُ يَزِيدَ عَنْ عُقَيْلٍ: " مَا يُفْعَلُ بِهِ " وَتَابَعَهُ شُعَيْبٌ وَعَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، وَمَعْمَرٌ وَيُذْكَرُ عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ أَنَّهُ قَالَ هَذَا الْقَوْلَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ عَلَيْهِ {إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا} [الفتح: ١] الْآيَةَ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا زید بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدہ ام العلاء رضی اللہ عنہا، جو انصاری عورت تھیں جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کی بیعت کی، وہ خبر دیتی ہیں کہ آپ ﷺ نے مہاجرین میں قرعہ اندازی کی تو ہمارے حصے میں سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ آئے۔ ہم نے انہیں اپنے گھر میں رکھ لیا تو انہیں وہ تکلیف شروع ہوئی جس میں وہ فوت ہو گئے۔ جب وہ فوت ہو گئے، انہیں غسل دیا گیا اور تین کپڑوں میں کفن دیا گیا تو رسول کریم ﷺ داخل ہوئے۔ میں نے کہا: اے ابو سائب! آپ پر اللہ کی رحمت ہو، میں گواہی دیتی ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو عزت بخشی ہو گی، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تجھے کیسے معلوم ہوا کہ اللہ نے اسے عزت بخشی ہے؟“ (میں نے کہا:) میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، اللہ تعالیٰ کسے عزت دیں گے؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جہاں تک اس کی بات ہے تو اس کے پاس یقینی بات آ چکی ہے، اللہ کی قسم! میں بھی اس کے لیے خیر کی توقع کرتا ہوں، ویسے اللہ کی قسم! میں بھی نہیں جانتا حالانکہ میں اللہ کا رسول ہوں کہ اللہ تعالیٰ میرے ساتھ کیا کریں گے۔“ وہ کہتی ہیں: میں نے کہا: اللہ کی قسم! آئندہ میں کبھی بھی کسی کو پاکیزہ نہیں کہوں گی۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنائز / حدیث: 6711
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ البخاري»