حدیث نمبر: 6710
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي أَبُو يَعْلَى، ثنا أَحْمَدُ بْنُ جَمِيلٍ الْمَرْوَزِيُّ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أنبأ مَعْمَرٌ، وَيُونُسُ، قَالَ الزُّهْرِيُّ: وَأَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ: أَنَّ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَقْبَلَ عَلَى فَرَسٍ مِنْ مَسْكَنِهِ بِالسُّنْحِ حَتَّى نَزَلَ فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ فَلَمْ يُكَلِّمِ النَّاسَ حَتَّى دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ، فَتَيَمَّمَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُسَجًّى بِبُرْدَةِ حِبَرَةٍ، فَكَشَفَ عَنْ وَجْهِهِ، وَأَكَبَّ عَلَيْهِ فَقَبَّلَهُ وَبَكَى، ثُمَّ قَالَ: بِأَبِي أَنْتَ، وَاللهِ لَا يَجْمَعُ اللهُ عَلَيْكَ مَوْتَتَيْنِ أَبَدًا، أَمَّا الْمُوتَةُ الَّتِي كَتَبَ اللهُ عَلَيْكَ فَقَدْ مِتُّهَا ".
حافظ ثناء اللہ

سیدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا، نبی کریم ﷺ کی بیوی، بیان کرتی ہیں کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا سنح میں جو مکان تھا وہاں سے گھوڑے پر آئے، اس سے اترے اور مسجد میں داخل ہو گئے۔ لوگوں سے کوئی کلام نہ کیا اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے اور رسول اللہ ﷺ کا قصد کیا اور وہ یمنی چادر میں لپٹے ہوئے تھے۔ انہوں نے آپ ﷺ کے چہرے سے کپڑا ہٹایا اور آپ ﷺ پر جھک گئے، پھر بوسہ دیا اور رو دیے۔ پھر انہوں نے کہا: ”میرا باپ آپ پر قربان ہو، اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ آپ پر کبھی دو موتیں وارد نہیں کرے گا سوائے اس موت کے جو اللہ تعالیٰ نے آپ پر لکھ دی تھی، وہ آپ ﷺ کو آچکی۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نکلے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ لوگوں سے کلام کر رہے تھے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: ”بیٹھ جاؤ“، مگر انہوں نے انکار کر دیا۔ پھر انہوں نے کہا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پھر انکار کر دیا تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیا۔ لوگ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو چھوڑ کر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہوئے اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اے لوگو! جو کوئی تم میں سے محمد ﷺ کی عبادت کیا کرتا تھا وہ جان لے کہ محمد ﷺ فوت ہو چکے ہیں اور جو کوئی تم میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا تھا وہ یقین جانے کہ اللہ زندہ ہے کبھی اسے موت نہیں آئے گی“ اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ أَفَإِنْ مَاتَ أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَى أَعْقَابِكُمْ وَمَنْ يَنْقَلِبْ عَلَى عَقِبَيْهِ فَلَنْ يَضُرَّ اللَّهَ شَيْئًا وَسَيَجْزِي اللَّهُ الشَّاكِرِينَ﴾ [سورة آل عمران: 144] ”نہیں ہیں محمد ﷺ مگر اللہ کے رسول، تحقیق ان سے پہلے بھی کئی رسول گزر چکے، سو کیا اگر وہ فوت ہو جائیں یا شہید کر دیے جائیں تو تم اپنی ایڑیوں کے بل پھر جاؤ گے۔“ یہ پوری آیت شاکرین تک پڑھی۔ پھر انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! لوگوں کی ایسی کیفیت تھی گویا کہ وہ یہ بات جانتے ہی نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیات بھی نازل کی ہیں مگر اسی وقت جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے تلاوت کی اور لوگوں نے یہ آیت سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے لی، پھر تو ہر کوئی یہی آیت تلاوت کر رہا تھا۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنائز / حدیث: 6710
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ البخاري»