السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنائز— کتاب الجنائز
باب: غسل المرأة زوجها باب: عورت کا اپنے شوہر کو غسل دینے کا بیان
حدیث نمبر: 6665
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو زُرْعَةَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو، ثنا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: " لَوْ كُنْتُ اسْتَقْبَلْتُ مِنَ الْأَمْرِ مَا اسْتَدْبَرْتُ، مَا غَسَّلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرُ نِسَائِهِ ". قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: فَتَلَهَّفَتْ عَلَى ذَلِكَ، وَلَا يُتَلَهَّفُ إِلَّا عَلَى مَا يَجُوزُ.حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ اگر مجھے اپنے معاملے کا وہ پہلے معلوم ہوتا جو بعد میں معلوم ہوا تو آپ ﷺ کو آپ ﷺ کی بیویوں کے علاوہ کوئی غسل نہ دیتا۔
شیخ کہتے ہیں کہ انہوں نے اس پر حسرت کا اظہار کیا اور حسرت صرف اسی بات پر کی جاتی ہے جو جائز ہو۔