السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنائز— کتاب الجنائز
جماع أبواب غسل الميت -- باب: ما يستحب من غسل الميت في قميص باب: میت کو غسل دینے کے ابواب کا جامع بیان -- باب: میت کو قمیص میں (قمیص پہنے ہوئے) غسل دینے کے مستحب ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 6622
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا النُّفَيْلِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَمَةَ بْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ عَبَّادٍ، عَنْ أَبِيهِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا تَقُولُ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَاهُ. إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: " فَغَسَّلُوهُ وَعَلَيْهِ قَمِيصٌ يَصُبُّونَ الْمَاءَ فَوْقَ الْقَمِيصِ وَيُدَلِّكُونَهُ بِالْقَمِيصِ دُونَ أَيْدِيهِمْ ".حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا، وہ کہتی تھیں اور انہوں نے پوری حدیث کو بیان کیا سوائے اس کے کہ انہوں نے کہا کہ انہوں نے آپ ﷺ کو غسل دیا اور آپ ﷺ پر قمیض تھی، وہ قمیض کے اوپر سے پانی بہا رہے تھے اور قمیض کے ساتھ ہی جسم کو مل رہے تھے بغیر ہاتھوں کے۔