السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنائز— کتاب الجنائز
جماع أبواب غسل الميت -- باب: ما يستحب من غسل الميت في قميص باب: میت کو غسل دینے کے ابواب کا جامع بیان -- باب: میت کو قمیص میں (قمیص پہنے ہوئے) غسل دینے کے مستحب ہونے کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ عَبَّادٍ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: " لَمَّا أَرَادُوا غُسْلَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اخْتَلَفَ الْقَوْمُ فِيهِ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: أَنُجَرِّدُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ ثِيَابِهِ كَمَا نُجَرِّدُ مَوْتَانَا، أَوْ نُغَسِّلُهُ وَعَلَيْهِ ثِيَابُهُ؟ فَأَلْقَى الله عَلَيْهِمُ السِّنَةَ حَتَّى مَا مِنْهُمْ رَجُلٌ إِلَّا نَائِمٌ ذَقْنُهُ عَلَى صَدْرِهِ، فَقَالَ قَائِلٌ مِنْ نَاحِيَةِ الْبَيْتِ مَا يَدْرُونَ مَا هُوَ: اغْسِلُوا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ ثِيَابُهُ، فَغَسَّلُوهُ وَعَلَيْهِ قَمِيصُهُ، يَصُبُّونَ الْمَاءَ عَلَيْهِ وَيُدَلِّكُونَهُ مِنْ فَوْقِهِ، قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: " وَايْمُ اللهِ، لَوِ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا غَسَّلَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا نِسَاؤُهُ "..سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ کے غسل کا ارادہ کیا گیا تو قوم نے اختلاف کیا۔ کچھ نے کہا کہ آپ ﷺ کے لباس کو اتارا جائے جیسے ہم اپنے فوت ہونے والوں کا لباس اتارتے ہیں تو اللہ تعالیٰ نے ان پر اونگھ نازل کردی یہاں تک کہ ان میں سے کوئی بھی نہیں تھا مگر نیند کی وجہ سے اس کی ٹھوڑی اس کی چھاتی کے ساتھ لگی ہوئی تھی اور گھر کے کونے میں سے ایک کہنے والے نے کہا (اور وہ نہیں جانتے تھے کہ وہ کیا ہے): ”رسول اللہ ﷺ کو غسل دو اس حال میں کہ آپ ﷺ کے کپڑے آپ کے جسدِ اطہر پر ہوں۔“ پھر انہوں نے آپ کو غسل دیا اس حال میں کہ آپ ﷺ کی قمیض آپ ﷺ کے جسم پر تھی اور اس پر وہ پانی ڈال رہے تھے، اوپر سے ہی مل رہے تھے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: ”اللہ کی قسم! اگر میں کسی آدمی کو اپنی طرف آتے ہوئے پاتی تو میں پیچھے نہ ہٹتی اور نہیں غسل دیا رسول اللہ ﷺ کو مگر آپ ﷺ کی ازواج نے ہی۔“