کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: میت کو غسل دینے کے ابواب کا جامع بیان -- باب: میت کو قمیص میں (قمیص پہنے ہوئے) غسل دینے کے مستحب ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 6621
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ عَبَّادٍ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: " لَمَّا أَرَادُوا غُسْلَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اخْتَلَفَ الْقَوْمُ فِيهِ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: أَنُجَرِّدُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ ثِيَابِهِ كَمَا نُجَرِّدُ مَوْتَانَا، أَوْ نُغَسِّلُهُ وَعَلَيْهِ ثِيَابُهُ؟ فَأَلْقَى الله عَلَيْهِمُ السِّنَةَ حَتَّى مَا مِنْهُمْ رَجُلٌ إِلَّا نَائِمٌ ذَقْنُهُ عَلَى صَدْرِهِ، فَقَالَ قَائِلٌ مِنْ نَاحِيَةِ الْبَيْتِ مَا يَدْرُونَ مَا هُوَ: اغْسِلُوا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ ثِيَابُهُ، فَغَسَّلُوهُ وَعَلَيْهِ قَمِيصُهُ، يَصُبُّونَ الْمَاءَ عَلَيْهِ وَيُدَلِّكُونَهُ مِنْ فَوْقِهِ، قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: " وَايْمُ اللهِ، لَوِ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا غَسَّلَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا نِسَاؤُهُ "..
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ کے غسل کا ارادہ کیا گیا تو قوم نے اختلاف کیا۔ کچھ نے کہا کہ آپ ﷺ کے لباس کو اتارا جائے جیسے ہم اپنے فوت ہونے والوں کا لباس اتارتے ہیں تو اللہ تعالیٰ نے ان پر اونگھ نازل کردی یہاں تک کہ ان میں سے کوئی بھی نہیں تھا مگر نیند کی وجہ سے اس کی ٹھوڑی اس کی چھاتی کے ساتھ لگی ہوئی تھی اور گھر کے کونے میں سے ایک کہنے والے نے کہا (اور وہ نہیں جانتے تھے کہ وہ کیا ہے): ”رسول اللہ ﷺ کو غسل دو اس حال میں کہ آپ ﷺ کے کپڑے آپ کے جسدِ اطہر پر ہوں۔“ پھر انہوں نے آپ کو غسل دیا اس حال میں کہ آپ ﷺ کی قمیض آپ ﷺ کے جسم پر تھی اور اس پر وہ پانی ڈال رہے تھے، اوپر سے ہی مل رہے تھے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: ”اللہ کی قسم! اگر میں کسی آدمی کو اپنی طرف آتے ہوئے پاتی تو میں پیچھے نہ ہٹتی اور نہیں غسل دیا رسول اللہ ﷺ کو مگر آپ ﷺ کی ازواج نے ہی۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنائز / حدیث: 6621
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن۔ أخرجه ابو داؤد»
حدیث نمبر: 6622
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا النُّفَيْلِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَمَةَ بْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ عَبَّادٍ، عَنْ أَبِيهِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا تَقُولُ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَاهُ. إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: " فَغَسَّلُوهُ وَعَلَيْهِ قَمِيصٌ يَصُبُّونَ الْمَاءَ فَوْقَ الْقَمِيصِ وَيُدَلِّكُونَهُ بِالْقَمِيصِ دُونَ أَيْدِيهِمْ ".
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا، وہ کہتی تھیں اور انہوں نے پوری حدیث کو بیان کیا سوائے اس کے کہ انہوں نے کہا کہ انہوں نے آپ ﷺ کو غسل دیا اور آپ ﷺ پر قمیض تھی، وہ قمیض کے اوپر سے پانی بہا رہے تھے اور قمیض کے ساتھ ہی جسم کو مل رہے تھے بغیر ہاتھوں کے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنائز / حدیث: 6622
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن۔ أبو داؤد»
حدیث نمبر: 6623
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ قَالَ: وَأنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، أنبأ أَبُو بُرْدَةَ يَعْنِي بُرَيْدَ بْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: " لَمَّا أَخَذُوا فِي غُسْلِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَادَاهُمْ مُنَادٍ مِنَ الدَّاخِلِ: لَا تَنْزِعُوا عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَمِيصًا ". ⦗٥٤٥⦘ ابْنُ بُرَيْدَةَ هَذَا هُوَ سُلَيْمَانُ بْنُ بُرَيْدَةَ قَدْ سَمَّاهُ غَيْرُهُ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ.
حافظ ثناء اللہ
ابن بریدہ اپنے باپ (سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ) سے بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ کے غسل کا معاملہ پیش آیا تو ان کو اندر ہی سے ایک آواز دینے والے نے آواز دی: ”رسول اللہ ﷺ کی قمیض نہ اتارو۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنائز / حدیث: 6623
درجۂ حدیث محدثین: حسن لغيرهٖ
تخریج حدیث «حسن لغيرهٖ۔ ابن ماجه»