السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنائز— کتاب الجنائز
باب: وضع اليد على المريض، والدعاء له بالشفاء، ومداواته بالصدقة باب: مریض پر ہاتھ رکھنے، اس کے لیے شفا کی دعا کرنے اور صدقے کے ذریعے اس کا علاج کرنے کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنِ الْأَعْمَشِ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الضُّحَى يُحَدِّثُ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا عَادَ مَرِيضًا مَسَحَ وَجْهَهُ وَصَدْرَهُ أَوْ قَالَ: مَسَحَ عَلَى صَدْرِهِ، وَقَالَ: " أَذْهِبِ الْبَأْسَ، رَبَّ النَّاسِ، وَاشْفِ أَنْتَ الشَّافِي، لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ، شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا " قَالَتْ: فَلَمَّا كَانَ مَرَضُهُ الَّذِي مَاتَ فِيهِ جَعَلْتُ آخُذُ يَدَهُ لِأَجْعَلَهَا عَلَى صَدْرِهِ وَأَقُولُ هَذِهِ الْمَقَالَةَ، فَانْتَزَعَ يَدَهُ مِنِّي وَقَالَ: " اللهُمَّ أَدْخِلْنِي الرَّفِيقَ الْأَعْلَى ". أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ، مِنْ وَجْهَيْنِ عَنْ شُعْبَةَ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ، مِنْ حَدِيثِ الثَّوْرِيِّ عَنِ الْأَعْمَشِ. وَقَالَ جَرِيرٌ عَنِ الْأَعْمَشِ: " مَسَحَهُ بِيَمِينِهِ " وَبِمَعْنَاهُ قَالَ الثَّوْرِيُّ عَنْهُ: وَرَوَاهُ هُشَيْمٌ عَنِ الْأَعْمَشِ فَقَالَ: وَضَعَ يَدَهُ حَيْثُ يَشْتَكِي.سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جب پیارے پیغمبر ﷺ کسی مریض کی عیادت کرتے تو اس کے چہرے اور چھاتی پر ہاتھ پھیرتے اور فرماتے: «أَذْهِبِ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ، اشْفِ وَأَنْتَ الشَّافِي، لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ، شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا» ”اے لوگوں کے رب! بیماری کو لے جا۔ اے شفا دینے والے! تو شفا دے، تیری شفا کے علاوہ کوئی شفا نہیں ایسی شفا جو بیماری کو نہ چھوڑے۔“
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: جب آپ ﷺ اس مرض میں تھے جس میں آپ ﷺ کی وفات ہوئی، میں نے آپ ﷺ کے ہاتھ کو پکڑا کہ آپ ﷺ کے سینے پر ان کلمات کے ساتھ پھیرنے چاہئیں تو آپ ﷺ نے مجھ سے اپنا ہاتھ کھینچ لیا اور فرمایا: «اللَّهُمَّ أَلْحِقْنِي بِالرَّفِيقِ الْأَعْلَى» ”اے اللہ! مجھے رفیقِ اعلیٰ میں داخل فرما۔“