السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنائز— کتاب الجنائز
باب: وضع اليد على المريض، والدعاء له بالشفاء، ومداواته بالصدقة باب: مریض پر ہاتھ رکھنے، اس کے لیے شفا کی دعا کرنے اور صدقے کے ذریعے اس کا علاج کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 6589
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّيْرَفِيُّ، بِمَرْوَ، ثنا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ الْفَضْلِ الْبَلْخِيُّ، ثنا الْمَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا الْجُعَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ سَعْدٍ، أَنَّ أَبَاهَا قَالَ: " اشْتَكَيْتُ بِمَكَّةَ فَجَاءَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُنِي، فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى جَبْهَتِي، ثُمَّ مَسَحَ صَدْرِي وَبَطْنِي، ثُمَّ قَالَ: " اللهُمَّ اشْفِ سَعْدًا وَأَتْمِمْ لَهُ هِجْرَتَهُ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مَكِّيِّ بْنِ إِبْرَاهِيمَ.حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ بنت سعد رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میرے ابا جی (سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ) نے فرمایا کہ میں مکہ میں بیمار ہو گیا تو رسول اللہ ﷺ میری عیادت کے لیے میرے پاس تشریف لائے اور آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ میری پیشانی پر رکھا، پھر میرے سینے اور پیٹ پر ہاتھ پھیرا اور فرمایا: «اللَّهُمَّ اشْفِ سَعْدًا، وَأَتْمِمْ لَهُ هِجْرَتَهُ» ”اے اللہ! سعد کو شفا دے اور اس کی ہجرت کو مکمل کر دے۔“