السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنائز— کتاب الجنائز
باب: وضع اليد على المريض، والدعاء له بالشفاء، ومداواته بالصدقة باب: مریض پر ہاتھ رکھنے، اس کے لیے شفا کی دعا کرنے اور صدقے کے ذریعے اس کا علاج کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 6591
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلَالٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، ثنا أَبُو الْمُغِيرَةِ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: " خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِهِ وَبِهِ وَجْدٌ وَأَنَا مَعَهُ، فَقَبَضَ عَلَى يَدِهِ، ⦗٥٣٦⦘ وَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى جَبْهَتِهِ، وَكَانَ يَرَى ذَلِكَ مِنْ تَمَامِ عِيَادَةِ الْمَرِيضِ، ثُمَّ قَالَ: " إِنَّ اللهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَقُولُ: " هِيَ نَارِي أُسَلِّطُهَا عَلَى عَبْدِيَ الْمُؤْمِنِ؛ لِتَكُونَ حَظَّهُ مِنَ النَّارِ فِي الْآخِرَةِ ". وَرَوَاهُ أَبُو أُسَامَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَقَالَ: عَنْ أَبِي صَالِحٍ الْأَشْعَرِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: آپ ﷺ اپنے صحابہ میں سے ایک آدمی کی عیادت کے لیے نکلے اور اسے دورے پڑ رہے تھے، میں آپ ﷺ کے ساتھ تھا۔ آپ ﷺ نے اس کا ہاتھ مجھے پکڑایا اور اپنے ہاتھ کو اس کی پیشانی پر رکھا اور آپ ﷺ مریض کی مکمل عیادت کا خیال کرتے تھے۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”بیشک اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتے ہیں: یہ میری آگ ہے، اسے میں اپنے مومن بندے پر مسلط کرتا ہوں تاکہ آخرت کی آگ سے اس کا حصہ بن جائے۔“