السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنائز— کتاب الجنائز
باب: المريض لا يسب الحمى، ولا يتمنى الموت لضر نزل به، وليصبر، وليحتسب باب: بیمار بخار کو برا بھلا نہ کہے، اور نہ ہی کسی پہنچنے والی تکلیف کی وجہ سے موت کی تمنا کرے، بلکہ اسے چاہیے کہ صبر کرے اور ثواب کی امید رکھے
حدیث نمبر: 6565
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ثنا شُعْبَةُ، ثنا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَتَمَنَّيَنَّ أَحَدُكُمُ الْمَوْتَ مِنْ ضُرٍّ أَصَابَهُ، فَإِنْ كَانَ لَا بُدَّ فَاعِلًا فَلْيَقُلِ: اللهُمَّ أَحْينِي مَا كَانَتِ الْحَيَاةُ خَيْرًا لِي، وَتَوَفَّنِي إِذَا كَانَتِ الْوَفَاةُ خَيْرًا لِي ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ آدَمَ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ ثَابِتٍ، وَغَيْرِهِ عَنْ أَنَسٍ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو تم میں سے کسی ایک کو تکلیف پہنچتی ہے اس کی وجہ سے وہ موت کی خواہش نہ کرے، اگر اس نے ضرور کرنی ہی ہے تو پھر کہے: «اللَّهُمَّ أَحْيِنِي مَا كَانَتِ الْحَيَاةُ خَيْرًا لِي، وَتَوَفَّنِي إِذَا كَانَتِ الْوَفَاةُ خَيْرًا لِي» ”اے اللہ! مجھے زندہ رکھنا جب تک زندگی میرے حق میں بہتر ہے اور موت میرے حق میں بہتر ہو تو مجھے فوت کرلینا۔““