السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنائز— کتاب الجنائز
باب: المريض لا يسب الحمى، ولا يتمنى الموت لضر نزل به، وليصبر، وليحتسب باب: بیمار بخار کو برا بھلا نہ کہے، اور نہ ہی کسی پہنچنے والی تکلیف کی وجہ سے موت کی تمنا کرے، بلکہ اسے چاہیے کہ صبر کرے اور ثواب کی امید رکھے
حدیث نمبر: 6564
حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِيُّ رَحِمَهُ اللهُ إِمْلَاءً، أنبأ أَبُو الْقَاسِمِ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ بَالَوَيْهِ الْمُزَكِّي، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ قَالَ: هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ قَالَ: وَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَتَمَنَّى أَحَدُكُمُ الْمَوْتَ، وَلَا يَدْعُو بِهِ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَهُ، إِنَّهُ إِذَا مَاتَ أَحَدُكُمُ انْقَطَعَ عَمَلُهُ عَنْهُ، وَإِنَّهُ لَا يَزِيدُ الْمُؤْمِنَ عُمْرُهُ إِلَّا خَيْرًا ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی موت کی خواہش نہ کرے اور نہ ہی اس کے آنے سے پہلے اس کی دعا کرے؛ کیونکہ جب تم میں سے کوئی فوت ہو جاتا ہے تو اس کے اعمال منقطع ہو جاتے ہیں اور مومن کی عمر اس کے لیے نہیں اضافہ کرتی مگر بھلائی میں۔“