السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنائز— کتاب الجنائز
باب: ما ينبغي لكل مسلم أن يستشعره من الصبر على جميع ما يصيبه من الأمراض والأوجاع والأحزان لما فيها من الكفارات والدرجات باب: ہر مسلمان کے لیے جو مناسب ہے کہ اسے جو بھی بیماریاں، تکلیفیں اور غم پہنچیں ان پر صبر کو اپنا شعار بنائے کیونکہ ان میں گناہوں کا کفارہ اور درجات کی بلندی ہے
حدیث نمبر: 6555
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْعَيْزَارِ بْنِ حُرَيْثٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " عَجِبْتُ لِلْمُؤْمِنِ، إِنْ أَصَابَهُ خَيْرٌ حَمِدَ اللهَ وَشَكَرَ، وَإِنْ أَصَابَتْهُ مُصِيبَةٌ حَمِدَ اللهَ وَصَبَرَ، فَالْمُؤْمِنُ يُؤْجَرُ عَلَى كُلِّ أَمْرِهِ، حَتَّى يُؤْجَرَ فِي اللُّقْمَةِ يَرْفَعُهَا إِلَى فِي امْرَأَتِهِ ". وَفِي هَذَا أَخْبَارٌ كَثِيرَةٌ، وَفِيمَا ذَكَرْنَا كِفَايَةٌ لِمَنْ أُيِّدَ بِالتَّوْفِيقِ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں مومن پر تعجب کرتا ہوں کہ اگر اسے کوئی بھلائی حاصل ہوتی ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کا شکر اور حمد بجا لاتا ہے، اگر اسے کوئی مصیبت آتی ہے تو پھر بھی اللہ کی حمد بیان کرتا ہے اور صبر کرتا ہے، سو مومن ہر حالت میں اجر دیا جاتا ہے حتیٰ کہ اس لقمے میں بھی جو اپنی بیوی کے منہ میں ڈالتا ہے۔“