السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنائز— کتاب الجنائز
باب: ما ينبغي لكل مسلم أن يستشعره من الصبر على جميع ما يصيبه من الأمراض والأوجاع والأحزان لما فيها من الكفارات والدرجات باب: ہر مسلمان کے لیے جو مناسب ہے کہ اسے جو بھی بیماریاں، تکلیفیں اور غم پہنچیں ان پر صبر کو اپنا شعار بنائے کیونکہ ان میں گناہوں کا کفارہ اور درجات کی بلندی ہے
حدیث نمبر: 6554
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحٍ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ النَّضْرِ بْنِ عَبْدِ الْوَهَّابِ، ثنا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، ثنا ثَابِتٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ صُهَيْبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْمُؤْمِنُ كُلٌّ لَهُ فِيهِ خَيْرٌ، وَلَيْسَ ذَاكَ لِأَحَدٍ إِلَّا لِلْمُؤْمِنِ، إِنْ أَصَابَهُ سَرَّاءُ فَشَكَرَ اللهَ فَلَهُ أَجْرٌ، وَإِنْ أَصَابَهُ ضَرَّاءُ فَصَبَرَ فَلَهُ أَجْرٌ، فَكُلُّ قَضَاءِ اللهِ لِلْمُسْلِمِينَ خَيْرٌ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ شَيْبَانَ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مومن کے لیے ہر حالت میں بہتری ہے اور یہ مومن کے علاوہ کسی ایک کے لیے بھی نہیں۔ اگر اسے بھلائی حاصل ہوتی ہے تو وہ اللہ کا شکر ادا کرتا ہے، وہ اس کے لیے اس کے عوض اجر ہے۔ اگر اسے تکلیف پہنچتی ہے تو وہ صبر کرتا ہے تو اس صورت میں بھی اس کے لیے اجر ہے۔ غرض مسلمان کے لیے اللہ تعالیٰ کا ہر فیصلہ بہتر ہے۔“