السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنائز— کتاب الجنائز
باب: ما ينبغي لكل مسلم أن يستشعره من الصبر على جميع ما يصيبه من الأمراض والأوجاع والأحزان لما فيها من الكفارات والدرجات باب: ہر مسلمان کے لیے جو مناسب ہے کہ اسے جو بھی بیماریاں، تکلیفیں اور غم پہنچیں ان پر صبر کو اپنا شعار بنائے کیونکہ ان میں گناہوں کا کفارہ اور درجات کی بلندی ہے
حدیث نمبر: 6546
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ، عَنْ خَيْثَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا كَانَ عَلَى طَرِيقَةٍ حَسَنَةٍ مِنَ الْعِبَادَةِ ثُمَّ مَرِضَ قِيلَ لِلْمَلَكِ الْمُوَكَّلِ: اكْتُبْ لَهُ مِثْلَ عَمَلِهِ إِذَا كَانَ طَلِقًا حَتَّى أُطْلِقَهُ أَوْ أَكْفِتَهُ إِلَيَّ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”بیشک بندہ جب عبادت کرتے ہوئے اچھے طریقے کا انتخاب کرتا ہے، پھر وہ بیمار ہو تو موکل فرشتے کو کہا جاتا ہے: اس کے لیے ان اعمال کا اجر لکھ جو وہ تندرستی کی حالت میں کرتا تھا یہاں تک کہ میں اسے تندرست کر دوں یا اپنی طرف بلا لوں۔“