حدیث نمبر: 6545
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيِّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ مَهْدِيٍّ الْمِصِّيصِيُّ الْمُعَنَّى قَالَا: ثنا أَبُو الْمَلِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ خَالِدٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ السُّلَمِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا سَبَقَتْ لَهُ مِنَ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ مَنْزِلَةٌ لَمْ يَنَلْهَا بِعَمَلِهِ ابْتَلَاهُ اللهُ فِي جَسَدِهِ أَوْ فِي مَالِهِ أَوْ فِي وَلَدِهِ "، زَادَ ابْنُ نُفَيْلٍ " ثُمَّ صَبَرَ عَلَى ذَلِكَ "، ثُمَّ اتَّفَقَا، " حَتَّى يُبَلِّغَهُ الْمَنْزِلَةَ الَّتِي سَبَقَتْ لَهُ مِنَ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ ".
حافظ ثناء اللہ

ابراہیم سلمی اپنے باپ سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں اور ان کی صحبت پیارے پیغمبر ﷺ کے ساتھ تھی، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ ﷺ فرماتے تھے: ”بیشک بندے کا مقام و مرتبہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اعلیٰ لکھا جاتا ہے مگر انسان اپنے اعمال سے اس تک نہیں پہنچ پاتا، تو اللہ تعالیٰ اس بندے کو اس کے جسم، مال، اولاد کی وجہ سے آزمائش میں مبتلا کرتے ہیں۔“ ابن نفیل نے یہ الفاظ زیادہ بیان کیے ہیں: ”پھر وہ اس پر صبر کرتا ہے،“ اس بات میں وہ دونوں متفق ہیں: ”یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس بندے کو اس مقام پر پہنچاتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے سبقت لے جا چکا ہوتا ہے۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنائز / حدیث: 6545
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيرهٖ
تخریج حدیث «صحيح لغيرهٖ۔ ابو داؤد»