السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنائز— کتاب الجنائز
باب: ما ينبغي لكل مسلم أن يستشعره من الصبر على جميع ما يصيبه من الأمراض والأوجاع والأحزان لما فيها من الكفارات والدرجات باب: ہر مسلمان کے لیے جو مناسب ہے کہ اسے جو بھی بیماریاں، تکلیفیں اور غم پہنچیں ان پر صبر کو اپنا شعار بنائے کیونکہ ان میں گناہوں کا کفارہ اور درجات کی بلندی ہے
حدیث نمبر: 6536
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي زُهَيْرٍ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، كَيْفَ الصَّلَاحُ بَعْدَ هَذِهِ الْآيَةِ؟ {مَنْ يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِ} [النساء: ١٢٣] أَكَلُّ سُوءٍ عَمِلْنَا بِهِ جُزِينَا؟ فَقَالَ: " غَفَرَ اللهُ لَكَ يَا أَبَا بَكْرٍ، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، أَلَسْتَ تَمْرَضُ؟ أَلَسْتَ تَحْزَنُ؟ أَلَسْتَ تَنْصَبُ؟ أَلَسْتَ تُصِيبُكَ الْبَلَاءُ؟ " قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: " فَهُوَ مَا تُجْزَوْنَ بِهِ فِي الدُّنْيَا ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس آیت کے بعد خلاصی کیسے؟ ﴿مَنْ يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِ﴾ [سورة النساء: 123] ”کہ جس نے برے اعمال کیے اسے پورا بدلہ دیا جائے گا“ یعنی جو بھی ہم برا عمل کرتے ہیں اس کی سزا دی جائے گی، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے ابوبکر! اللہ تجھے معاف کرے“، یہ بات تین مرتبہ کہی۔ ”کیا تو بیمار نہیں ہوتا؟ کیا تو غمگین نہیں ہوتا؟ کیا تجھے تکلیف نہیں آتی؟ کیا تجھے مصیبت نہیں آتی؟“ میں نے کہا: جی ہاں آتی ہیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہی تو ہے وہ جس کا دنیا میں بدلہ دیے جاتے ہو۔“