السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنائز— کتاب الجنائز
باب: ما ينبغي لكل مسلم أن يستشعره من الصبر على جميع ما يصيبه من الأمراض والأوجاع والأحزان لما فيها من الكفارات والدرجات باب: ہر مسلمان کے لیے جو مناسب ہے کہ اسے جو بھی بیماریاں، تکلیفیں اور غم پہنچیں ان پر صبر کو اپنا شعار بنائے کیونکہ ان میں گناہوں کا کفارہ اور درجات کی بلندی ہے
حدیث نمبر: 6535
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ إِمْلَاءً أنبأ بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا أَبُو حَفْصٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَيْصِنٍ السَّهْمِيُّ قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ قَيْسِ بْنِ مَخْرَمَةَ يحَدِّثُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ {مَنْ يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِ} [النساء: ١٢٣] شَقَّ ذَلِكَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ، فَذَكَرُوهُ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَارِبُوا، وَسَدِّدُوا، وَأَبْشِرُوا، فَإِنَّ كُلَّ مَا أَصَابَ الْمُسْلِمَ كَفَّارَةٌ لَهُ حَتَّى الشَّوْكَةُ يُشَاكُهَا أَوِ النَّكْبَةُ يُنْكَبُهَا ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ وَغَيْرِهِ عَنْ سُفْيَانَ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب یہ آیت ﴿مَنْ يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِ﴾ [سورة النساء: 123] نازل ہوئی تو مسلمانوں پر بہت گراں گزری۔ انہوں نے اس کا تذکرہ پیارے پیغمبر ﷺ کے پاس کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”مل جل کے رہو اور سیدھے رہو اور خوشخبری پھیلاؤ، یقیناً مسلمان کو جو بھی تکلیف پہنچتی ہے وہ اس کے گناہوں کا کفارہ ہوتا ہے یہاں تک کہ وہ کانٹا بھی جو اسے تکلیف پہنچاتا ہے اور وہ مصیبت جو اس پر آتی ہے (گناہوں کے کفارے کا باعث ہے)۔“