السنن الكبرى للبيهقي
كتاب صلاة الاستسقاء— کتاب الاستسقائ
باب: أي ريح يكون بها المطر باب: کون سی ہوا سے بارش ہوتی ہے اس کا بیان
حدیث نمبر: 6489
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، أنبأ أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْبَصْرِيُّ بِمَكَّةَ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، سَمِعَ يَزِيدَ بْنَ جُعْدُبَةَ يحَدِّثُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مِخْرَاقٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ خَلَقَ فِي الْجَنَّةِ رِيحًا بَعْدَ الرِّيحِ بِسَبْعِ سِنِينَ، مِنْ دُونِهَا بَابٌ مُغْلَقٌ، وَإِنَّمَا تَأْتِيكُمُ الرُّوحُ مِنْ خَلَالِ ذَلِكَ الْبَابِ، وَلَوْ فُتِحَ ذَلِكَ الْبَابُ لَأَدَرَّتْ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ مِنْ شَيْءٍ، وَهِيَ عِنْدَ اللهِ الْأَزْيَبُ، وَهِيَ عِنْدَكُمُ الْجَنُوبُ ".حافظ ثناء اللہ
عبدالرحمٰن بن مخراق سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں اور وہ اسے نبی ﷺ تک پہنچاتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بیشک اللہ تعالیٰ نے جنت میں ایک «رِيحٍ» (ہوا) کو پیدا کیا دوسری ہوا کے سات سال بعد، اس کے پیچھے ایک دروازہ بند ہے اور بیشک جو ہوا تم تک آتی ہے وہ اس دروازے کے درمیان میں سے گزر کر آتی ہے۔ اگر وہ دروازہ کھول دیا جائے تو جو کچھ آسمان و زمین کے درمیان ہے وہ الٹ پلٹ ہو جائے اور وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک «الْأَزْيَبُ» ہے اور تمہارے نزدیک جنوبی ہوا ہے۔“