السنن الكبرى للبيهقي
كتاب صلاة الاستسقاء— کتاب الاستسقائ
باب: ما يقول إذا سمع الرعد باب: بادل گرجنے کی آواز سننے پر جو دعا پڑھی جائے گی اس کا بیان
حدیث نمبر: 6472
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ ابْنُ عُيَيْنَةَ، قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ طَاوسٍ: مَا كَانَ أَبُوكَ يَقُولُ إِذَا سَمِعَ الرَّعْدَ؟ قَالَ: كَانَ يَقُولُ: " سُبْحَانَ مَنْ سَبَّحْتَ لَهُ ". قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: " كَأَنَّهُ يَذْهَبُ إِلَى قَوْلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ {وَيُسَبِّحُ الرَّعْدُ بِحَمْدِهِ} [الرعد: ١٣] ".حافظ ثناء اللہ
ابن عیینہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے ابن طاؤس رحمہ اللہ سے کہا: جب آپ کے والد رعد کی آواز سنتے تھے تو کیا کہتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: وہ کہتے تھے: «سُبْحَانَ مَنْ سَبَّحْتَ لَهُ» ”پاک ہے وہ ذات جس کی تو نے تسبیح بیان کی ہے۔“
امام شافعی رحمہ اللہ کہتے ہیں: گویا وہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿وَيُسَبِّحُ الرَّعْدُ بِحَمْدِهِ﴾ [سورة الرعد: 13] کی طرف جایا کرتے تھے کہ رعد اللہ کی تسبیح بیان کرتی ہے۔