کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: بادل گرجنے کی آواز سننے پر جو دعا پڑھی جائے گی اس کا بیان
حدیث نمبر: 6470
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ الْقَطَّانُ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرْبِيُّ، ثنا عَفَّانُ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، حَدَّثَنِي أَبُو مُظَفَّرٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَمِعَ الرَّعْدَ وَالصَّوَاعِقَ قَالَ: " اللهُمَّ لَا تَقْتُلْنَا بِغَضَبِكَ، وَلَا تُهْلِكْنَا بِعَذَابِكَ، وَعَافِنَا قَبْلَ ذَلِكَ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا سالم بن عبداللہ اپنے والد (سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) سے بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ جب رعد یا کڑک کی گرج سنتے تو فرماتے: «اللَّهُمَّ لَا تَقْتُلْنَا بِغَضَبِكَ، وَلَا تُهْلِكْنَا بِعَذَابِكَ، وَعَافِنَا قَبْلَ ذَلِكَ» ”اے اللہ! ہمیں اپنے غضب سے قتل نہ کرنا اور نہ اپنے عذاب سے ہلاک کرنا، اور ان کے آنے سے پہلے ہمیں معاف کر دینا۔“
حدیث نمبر: 6471
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ أَبِي الْمَعْرُوفِ الْفَقِيهُ، ثنا أَبُو سَهْلٍ بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا دَاودُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْبَيْهَقِيُّ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ: أَنَّهُ كَانَ إِذَا سَمِعَ الرَّعْدَ تَرَكَ الْحَدِيثَ، وَقَالَ: " سُبْحَانَ اللهِ الَّذِي يُسَبِّحُ الرَّعْدُ بِحَمْدِهِ، وَالْمَلَائِكَةُ مِنْ خِيفَتِهِ، ثُمَّ يَقُولُ: إِنَّ هَذَا الْوَعِيدَ لِأَهْلِ الْأَرْضِ شَدِيدٌ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ جب وہ رعد کی آواز سنتے تو گفتگو بند کر دیتے اور کہتے: «سُبْحَانَ الَّذِي يُسَبِّحُ الرَّعْدُ بِحَمْدِهِ وَالْمَلَائِكَةُ مِنْ خِيفَتِهِ» ”پاک ہے وہ ذات کہ ﴿وَيُسَبِّحُ الرَّعْدُ بِحَمْدِهِ وَالْمَلَائِكَةُ مِنْ خِيفَتِهِ﴾ [سورة الرعد: 13] رعد جس کی حمد کے ساتھ تسبیح بیان کرتا ہے اور فرشتے بھی اس کے ڈر سے (تسبیح کرتے ہیں)۔“ پھر وہ کہتے ہیں: ”یہ اللہ تعالیٰ کی اہل زمین کے لیے سخت وعید کی دھمکی ہے۔“
حدیث نمبر: 6472
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ ابْنُ عُيَيْنَةَ، قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ طَاوسٍ: مَا كَانَ أَبُوكَ يَقُولُ إِذَا سَمِعَ الرَّعْدَ؟ قَالَ: كَانَ يَقُولُ: " سُبْحَانَ مَنْ سَبَّحْتَ لَهُ ". قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: " كَأَنَّهُ يَذْهَبُ إِلَى قَوْلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ {وَيُسَبِّحُ الرَّعْدُ بِحَمْدِهِ} [الرعد: ١٣] ".
حافظ ثناء اللہ
ابن عیینہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے ابن طاؤس رحمہ اللہ سے کہا: جب آپ کے والد رعد کی آواز سنتے تھے تو کیا کہتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: وہ کہتے تھے: «سُبْحَانَ مَنْ سَبَّحْتَ لَهُ» ”پاک ہے وہ ذات جس کی تو نے تسبیح بیان کی ہے۔“
امام شافعی رحمہ اللہ کہتے ہیں: گویا وہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿وَيُسَبِّحُ الرَّعْدُ بِحَمْدِهِ﴾ [سورة الرعد: 13] کی طرف جایا کرتے تھے کہ رعد اللہ کی تسبیح بیان کرتی ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ کہتے ہیں: گویا وہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿وَيُسَبِّحُ الرَّعْدُ بِحَمْدِهِ﴾ [سورة الرعد: 13] کی طرف جایا کرتے تھے کہ رعد اللہ کی تسبیح بیان کرتی ہے۔