السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: ترك الوضوء من مس الفرج بظهر الكف باب: ہاتھ کی پشت سے شرمگاہ کو چھونے سے وضو ساقط ہونے کا بیان
وَأَمَّا الْحَدِيثُ الَّذِي أَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنا أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، أنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا مُلَازِمُ بْنُ عَمْرٍو الْحَنَفِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ بَدْرٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ، عَنْ أَبِيهِ طَلْقِ بْنِ عَلِيٍّ، قَالَ: خَرَجْنَا إِلَى نَبِيِّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفْدًا حَتَّى قَدِمْنَا عَلَيْهِ فَبَايَعْنَاهُ وَصَلَّيْنَا مَعَهُ فَجَاءَ رَجُلٌ كَأَنَّهُ بَدَوِيٌّ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ مَا تَرَى فِي مَسِّ الرَّجُلِ ذَكَرَهُ بَعْدَمَا يَتَوَضَّأُ؟ فَقَالَ: " وَهَلْ هُوَ إِلَّا بَضْعَةٌ أَوْ مُضْغَةٌ مِنْكَ " فَهَذَا حَدِيثٌ رَوَاهُ مُلَازِمُ بْنُ عُمَرَ وَهَكَذَا قَالَ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصِّبْغِيُّ: مُلَازِمٌ فِيهِ نَظَرٌ، قَالَ الشَّيْخُ: وَرَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ جَابِرٍ الْيَمَامِيُّ، وَأَيُّوبُ بْنُ عُتْبَةَ، عَنْ قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ، وَكِلَاهُمَا ضَعِيفٌ. وَرَوَاهُ عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، عَنْ قَيْسٍ، أَنَّ طَلْقًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَرْسَلَهُ. وَعِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ أَمْثَلُ مَنْ رَوَاهُ عَنْ قَيْسٍ، وَعِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ قَدِ اخْتَلَفُوا فِي تَعْدِيلِهِ، غَمَزَهُ ⦗٢١٣⦘ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، وَأَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، وَضَعَّفَهُ الْبُخَارِيُّ جِدًّا، وَأَمَّا قَيْسُ بْنُ طَلْقٍ، فَقَدْ رَوَى الزَّعْفَرَانِيُّ عَنِ الشَّافِعِيِّ أَنَّهُ قَالَ: سَأَلْنَا عَنْ قَيْسٍ فَلَمْ نَجِدْ مَنْ يَعْرِفُهُ بِمَا يَكُونُ لَنَا قَبُولُ خَبَرِهِ وَقَدْ عَارَضَهُ مَنْ وَصَفْنَا ثِقَتَهُ وَرَجَاحَتَهُ فِي الْحَدِيثِ وَتَثَبُّتَهُ فِيمَا. أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ النَّقَّاشُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى الْقَاضِي السَّرَخْسِيُّ، ثنا رَجَاءُ بْنُ مُرَجَّا الْحَافِظُ فِي قِصَّةٍ ذَكَرَهَا قَالَ: فَقَالَ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ: قَدْ أَكْثَرَ النَّاسُ فِي قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ، وَلَا يُحْتَجُّ بِحَدِيثِهِ، وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ الْفَقِيهُ، أَنَا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ قَالَ: قَالَ: ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ، سَأَلْتُ أَبِي، وَأَبَا زُرْعَةَ عَنْ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ جَابِرٍ هَذَا فَقَالَا: قَيْسُ بْنُ طَلْقٍ لَيْسَ مِمَّنْ تَقُومُ بِهِ حُجَّةٌ، وَوَهَّنَاهُ وَلَمْ يُثَبِّتَاهُ، ثُمَّ إِنَّهُ إِنْ كَانَ صَحَّ فِي ابْتِدَاءِ الْهِجْرَةِ حِينَ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْنِي مَسْجِدَهُ، وَسَمَاعُ أَبِي هُرَيْرَةَ وَغَيْرِهِ مِمَّنْ رُوِّينَا عَنْهُ فِي ذَلِكَ كَانَ بَعْدَهُ وَهُوَ فِيمَا.سیدنا طلق بن علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم وفد کی شکل میں نبی ﷺ کے پاس آئے، ہم نے آپ ﷺ کی بیعت کی اور آپ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی، ایک دیہاتی شخص آیا، اس نے عرض کیا: اے اللہ کے رسولﷺ! جو شخص وضو کرنے کے بعد اپنی شرمگاہ کو چھو لیتا ہے اس کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ تو اس کے جسم کا ایک حصہ یا ٹکڑا ہے۔“ (ب) شیخ کہتے ہیں کہ محمد بن جابر یمامی اور ایوب بن عتبہ قیس بن طلق سے روایت کرتے ہیں اور دونوں ضعیف ہیں۔
ابوبکر احمد بن اسحاق صبغی نے کہا: ملازم کے بارے میں نظر ہے۔ عکرمہ بن عمار نے اسے قیس سے مرسل روایت کیا ہے، اور وہ قیس سے روایت کرنے والوں میں سب سے بہتر ہیں، لیکن ان کی تعدیل میں اختلاف ہے: یحییٰ بن سعید قطان اور احمد بن حنبل نے ان پر جرح کی ہے اور امام بخاری نے انہیں سخت ضعیف قرار دیا ہے۔ رہے قیس بن طلق، تو امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ہم نے قیس کے بارے میں پوچھا تو ہمیں کوئی ایسا شخص نہیں ملا جو انہیں اس طرح جانتا ہو کہ ہم ان کی روایت قبول کر سکیں۔ یحییٰ بن معین نے کہا: قیس بن طلق کی حدیث سے حجت نہیں پکڑی جاتی۔ ابو حاتم اور ابو زرعہ نے کہا: قیس بن طلق ان میں سے نہیں جن سے حجت قائم ہو، اور انہوں نے اسے کمزور قرار دیا اور ثابت نہیں مانا۔