❮
❯
حدیث نمبر: 6439
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، فَذَكَرَهُ عَلَى اللَّفْظِ الْأَوَّلِ. ⦗٤٩٦⦘ قَالَ عَبْدُ اللهِ: فَحَدَّثْتُ بِهَذَا الْحَدِيثِ أَبِي، فَقَالَ أَبِي: أَعْطَانَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ كِتَابَهُ عَنْ مِسْعَرٍ فَنَسَخْنَاهُ، وَلَمْ يَكُنْ هَذَا الْحَدِيثُ فِيهِ لَيْسَ هَذَا بِشَيْءٍ، كَأَنَّهُ أَنْكَرَهُ مِنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدٍ، قَالَ أَبِي: فَحَدَّثَنَاهُ يَعْلَى أَخُو مُحَمَّدٍ، ثنا مِسْعَرٌ عَنْ يَزِيدَ الْفَقِيرِ مُرْسَلًا وَلَمْ يَقُلْ: بَوَاكِي، خَالَفَهُ.
حافظ ثناء اللہ

ہمیں حدیث بیان کی محمد بن عبید نے، انہوں نے پہلے الفاظ کا تذکرہ کیا تو عبداللہ رحمہ اللہ نے کہا: میں نے یہ حدیث اپنے باپ رحمہ اللہ کے سامنے بیان کی تو میرے باپ رحمہ اللہ نے کہا کہ محمد بن عبید نے ہمیں اپنی کتاب (تحریر) دی جو مسعر سے تھی، ہم نے اسے نقل کیا اور اس میں یہ حدیث نہیں تھی، یہ کوئی چیز نہیں، گویا انہوں نے اسے محمد بن عبید کی طرف سے منکر جانا ہے۔ میرے باپ نے کہا: ہمیں یہ حدیث محمد کے بھائی یعلیٰ نے بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں مسعر نے یزید فقیر سے مرسل بیان کی اور انہوں نے «بَوَاكِي» (رونے والے) نہیں کہا، یوں انہوں نے ان کی مخالفت کی۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب صلاة الاستسقاء / حدیث: 6439
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ ابن خزيمه»