❮
❯
حدیث نمبر: 6438
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأُشْنَانِيُّ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، فَذَكَرَهُ. وَقَالَ: هَوَازِنُ، وَلَمْ يَقُلْ " قُولُوا ". هَكَذَا رَوَاهُ جَمَاعَةٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدٍ، وَكَذَا هُوَ فِي نُسْخَتِنَا لِكِتَابِ أَبِي دَاوُدَ، وَكَانَ أَبُو سُلَيْمَانَ الْخَطَّابِيُّ رَحِمَهُ اللهُ يَسْتَقْرِيهِ، رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَاكَى، ثُمَّ فَسَّرَهُ فَقَالَ: قَوْلُهُ: تَوَاكَى مَعْنَاهُ: التَّحَامُلُ إِذَا رَفَعَهُمَا وَمَدَّهُمَا فِي الدُّعَاءِ..
حافظ ثناء اللہ

ابو عباس رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں اور انہوں نے تذکرہ کیا اور کہا: وہ ہوازن تھے، مگر انہوں نے «قُولُوا» ”کہو“ کا لفظ ذکر نہیں کیا۔ ایک جماعت نے اسے محمد بن عبید سے اسی طرح روایت کیا ہے، اور ابوداؤد کی کتاب کے ہمارے نسخے میں بھی اسی طرح ہے۔ ابو سلیمان خطابی رحمہ اللہ اسے یوں پڑھتے تھے: «رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ ﷺ تَوَاكَى»، پھر انہوں نے اس کی وضاحت کی کہ «تَوَاكَى» کا معنی ہے: دعا میں ہاتھ اٹھاتے اور پھیلاتے وقت زور لگانا۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب صلاة الاستسقاء / حدیث: 6438
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ ابوداؤد»