السنن الكبرى للبيهقي
كتاب صلاة الاستسقاء— کتاب الاستسقائ
باب: الدعاء في الاستسقاء باب: استسقاء میں دعا مانگنے کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أنبأ أَبُو عُمَرَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ السِّمْطِ، أَنَّهُ قَالَ لِكَعْبِ بْنِ مُرَّةَ أَوْ مَرَّةَ بْنِ كَعْبٍ: حَدِّثْنَا حَدِيثًا سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَا عَلَى مُضَرَ، فَأَتَيْتُهُ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ اللهَ قَدْ أَعْطَاكَ وَاسْتَجَابَ لَكَ، وَإِنَّ قَوْمَكَ قَدْ هَلَكُوا، فَادْعُ اللهَ لَهُمْ، فَقَالَ: " اللهُمَّ اسْقِنَا غَيْثًا مُغِيثًا، مَرِيًّا، مَرِيعًا، غَدَقًا، طَبَقًا، عَاجِلًا غَيْرَ رَائِثٍ، نَافِعًا غَيْرَ ضَارٍّ ". فَمَا كَانَتْ إِلَّا جُمُعَةٌ أَوْ نَحْوَهَا حَتَّى سُقُوا ".سیدنا کعب بن مرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ہمیں وہ حدیث بیان کی جو انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے سنی تھی، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا کہ آپ ﷺ نے قبیلہ ”مضر“ کے لیے بددعا کی، تو میں آپ ﷺ کے پاس آیا اور میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! بیشک اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا کر دیا اور آپ کی دعا کو قبول کر لیا اور بیشک آپ کی قوم ہلاک ہو چکی ہے، آپ ان کے لیے دعا کریں، تو آپ ﷺ نے دعا فرمائی: «اللَّهُمَّ اسْقِنَا غَيْثًا مُغِيثًا مَرِيئًا مَرِيعًا نَافِعًا غَيْرَ ضَارٍّ عَاجِلًا غَيْرَ آجِلٍ» ”اے اللہ! تو ہمیں ایسی مفید بارش عطا فرما جو سیراب کرنے والی ہو، شادابی لانے والی جو آسودہ کرنے والی اور فراوانی لانے والی ہو، جلدی آنے والی ہو دیر سے آنے والی نہ ہو، فائدہ مند ہو نقصان دہ نہ ہو“ پس ابھی ایک جمعہ یا اس کے برابر وقت نہیں گزرا تھا کہ انہیں بارش عطا کر دی گئی۔