السنن الكبرى للبيهقي
كتاب صلاة الاستسقاء— کتاب الاستسقائ
باب: الاستسقاء بغير صلاة ويوم الجمعة على المنبر باب: نماز کے بغیر اور جمعہ کے دن منبر پر (خطبے کے دوران) بارش کی دعا کرنے کا بیان
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَمَّادٍ الظَّهْرَانِيُّ بِالرِّيِّ، أنبأ أَبِي، أنبأ السِّنْدِيُّ يَعْنِي ابْنَ عَبْدُوَيْهِ الدُّهْكِيَّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْمَدَنِيِّ هُوَ أَبُو أُوَيْسٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي لُبَابَةَ بْنِ عَبْدِ الْمُنْذِرِ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: اسْتَسْقَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَقَالَ: " اللهُمَّ اسْقِنَا، اللهُمَّ اسْقِنَا "، فَقَامَ أَبُو لُبَابَةَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ التَّمْرَ فِي الْمَرَابِدِ، قَالَ: وَمَا فِي السَّمَاءِ سَحَابٌ نَرَاهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اللهُمَّ اسْقِنَا حَتَّى يَقُومَ أَبُو لُبَابَةَ عُرْيَانًا يَسُدُّ ثَعْلَبَ مِرْبَدِهِ بِإِزَارِهِ ". قَالَ: فَاسْتَهَلَّتِ السَّمَاءُ فَأَمْطَرَتْ، وَصَلَّى بِنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:، ثُمَّ طَافَتِ الْأَنْصَارُ بِأَبِي لُبَابَةَ يَقُولُونَ لَهُ: يَا أَبَا لُبَابَةَ، إِنَّ السَّمَاءَ وَاللهِ لَنْ تُقْلِعَ أَبَدًا حَتَّى تَقُومَ عُرْيَانًا، فَتَسُدَّ ثَعْلَبَ مِرْبَدِكَ بِإِزَارِكَ، كَمَا قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " فَقَامَ أَبُو لُبَابَةَ عُرْيَانًا؛ فَسَدَّ ثَعْلَبَ مِرْبَدِهِ بِإِزَارِهِ، قَالَ: فَأَقْلَعَتِ السَّمَاءُ ".سیدنا ابو لبابہ بن عبد المنذر انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جمعے کے دن رسول اللہ ﷺ نے بارش کی دعا کی اور فرمایا: «اللَّهُمَّ اسْقِنَا، اللَّهُمَّ اسْقِنَا» ”اے اللہ! ہمیں بارش دے، اے اللہ! ہمیں بارش دے۔“ تو ابو لبابہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! کھجوریں باڑے میں پڑی ہیں اور ہم آسمان میں کوئی بادل بھی نہیں دیکھ رہے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے اللہ! ہمیں بارش دے اس قدر کہ ابو لبابہ ننگا کھڑا ہو اور اپنے باڑے کے سوراخ کو اپنے تہبند کے ساتھ بند کرے۔“ راوی کہتے ہیں کہ آسمان ابر آلود ہو گیا اور بارش برسی اور رسول اللہ ﷺ نے ہمیں نماز پڑھائی۔ راوی کہتے ہیں کہ انصار ابو لبابہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور کہنے لگے: اے ابو لبابہ! اللہ کی قسم! اتنی دیر آسمان صاف نہیں ہوگا یہاں تک کہ تو ننگا کھڑا ہو کر اپنی چادر سے باڑے کے سوراخ کو بند نہیں کرے گا جس طرح آپ ﷺ نے فرمایا ہے، چنانچہ ابو لبابہ رضی اللہ عنہ ننگا کھڑا ہوا اور اپنی چادر سے باڑے کے سوراخ کو بند کیا تو آسمان صاف ہو گیا۔