السنن الكبرى للبيهقي
كتاب صلاة الاستسقاء— کتاب الاستسقائ
باب: الاستسقاء بغير صلاة ويوم الجمعة على المنبر باب: نماز کے بغیر اور جمعہ کے دن منبر پر (خطبے کے دوران) بارش کی دعا کرنے کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ الْفَضْلِ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْمُزَنِيُّ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى، ثنا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنِي شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ الْمُسَيِّبِ " أَنَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُخْبِرَ أَنَّ أَبَا لُبَابَةَ يَقُولُ لِلسَّمَاءِ: " أَمِدِّي، يَدْعُو بِالْجَدْبِ لِنَفَاقِ ثَمَرَةِ نَخْلِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اللهُمَّ أَرْسِلْهَا حَتَّى يَسُدَّ أَبُو لُبَابَةَ ثَعْلَبَ مِرْبَدِهِ بِرِدَائِهِ " فَأَرْسَلَ اللهُ السَّمَاءَ فَلَمَّا صَارَ السَّيْلُ بِثَمَرِ أَبِي لُبَابَةَ، وَهُوَ فِي الْمِرْبَدِ اضْطُرَّ أَبُو لُبَابَةَ إِلَى إِزَارِهِ فَسَدَّ بِهِ ثَعْلَبَ الْمِرْبَدِ ".سعید بن مسیب رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺ کو خبر دی گئی کہ ابو لبابہ رضی اللہ عنہ آسمان سے کہتا ہے: تو لمبا ہوجا، یعنی وہ قحط اپنے کھجوروں کے پھل کے خرچ ہونے کے لیے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے اللہ! اس کو بھیج دے (یعنی بارش نازل کر دے) یہاں تک کہ ابو لبابہ رضی اللہ عنہ اپنے باڑے کے سوراخ کو اپنی چادر سے بند کرنے پر مجبور ہو جائے۔“ تو اللہ تعالیٰ نے بارش نازل فرما دی، سو جب بارش کا پانی ابو لبابہ رضی اللہ عنہ کے پھل تک پہنچا اور وہ اپنے کھجوروں کے باڑے میں تھا، تو ابو لبابہ رضی اللہ عنہ اپنی چادر کی طرف مجبور ہوا تو اس نے اس کے ساتھ اپنے باڑے کے سوراخ کو بند کیا۔