السنن الكبرى للبيهقي
كتاب صلاة الاستسقاء— کتاب الاستسقائ
باب: الدعاء في الاستسقاء باب: استسقاء میں دعا مانگنے کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، ح وَأنبأ، أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَخْتَوَيْهِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ، ح وَأنبأ أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، ثنا جَعْفَرٌ الْفِرْيَابِيُّ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي ⦗٤٩٥⦘ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ هُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ، أَخْبَرَنِي شَرِيكٌ، عَنْ أَنَسٍ: " أَنَّ رَجُلًا دَخَلَ الْمَسْجِدَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ مِنْ بَابٍ كَانَ نَحْوَ دَارِ الْقَضَاءِ، وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمٌ يَخْطُبُ، فَاسْتَقْبَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمًا، ثُمَّ قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، هَلَكَتِ الْأَمْوَالُ، وَانْقَطَعَتِ السُّبُلُ؛ فَادْعُ اللهَ أَنْ يُغِيثَنَا، قَالَ: فَرَفَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: " اللهُمَّ أَغِثْنَا، اللهُمَّ أَغِثْنَا، اللهُمَّ أَغِثْنَا "، ثَلَاثًا، قَالَ أَنَسٌ: فَلَا وَاللهِ مَا نَرَى فِي السَّمَاءِ سَحَابَةً، وَلَا قَزَعَةً، وَمَا بَيْنَنَا وَبَيْنَ سَلْعٍ مِنْ بَيْتٍ وَلَا دَارٍ، قَالَ فَطَلَعَتْ مِنْ وَرَائِهِ سَحَابَةٌ مِثْلُ التُّرْسِ؛ فَلَمَّا تَوَسَّطَتِ السَّمَاءَ انْتَشَرَتْ، ثُمَّ أَمْطَرَتْ، قَالَ أَنَسٌ: فَلَا وَاللهِ مَا رَأَيْنَا الشَّمْسَ سَبْتًا، قَالَ فَدَخَلَ رَجُلٌ مِنْ ذَلِكَ الْبَابِ فِي الْجُمُعَةِ الْمُقْبِلَةِ، وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ، فَاسْتَقْبَلَهُ قَائِمًا فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، هَلَكَتِ الْأَمْوَالُ، وَانْقَطَعَتِ السُّبُلُ؛ فَادْعُ اللهَ يُمْسِكْهَا عَنَّا، قَالَ: فَرَفَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: " اللهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلَا عَلَيْنَا، اللهُمَّ عَلَى الْآكَامِ وَالظِّرَابِ، وَبُطُونِ الْأَوْدِيَةِ، وَمَنَابِتِ الشَّجَرِ " قَالَ: فَأَقْلَعَتْ، فَخَرَجْنَا نَمْشِي فِي الشَّمْسِ ". قَالَ شَرِيكٌ: فَسَأَلْتُ أَنَسًا أَهُوَ الرَّجُلُ الْأَوَّلُ؟ فَقَالَ: لَا أَدْرِي ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ إِسْمَاعِيلَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، وَيَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةَ، وَعَلِيِّ بْنِ حُجْرٍ، كُلُّهُمْ عَنْ إِسْمَاعِيلَ.سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جمعہ کے دن ایک آدمی مسجد کے دروازے سے داخل ہوا جو ”دارالقضاء“ کی طرف تھا اور آپ ﷺ کھڑے خطبہ دے رہے تھے۔ وہ بھی کھڑے کھڑے رسول اللہ ﷺ کی طرف متوجہ ہوا اور کہنے لگا: ”اے اللہ کے رسول! اموال ہلاک ہوگئے، راستے منقطع ہوچکے ہیں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجیے کہ وہ ہماری مدد فرمائے۔“ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ اٹھائے اور فرمایا: «اللَّهُمَّ أَغِثْنَا» ”اے اللہ! ہماری مدد فرما۔“ آپ ﷺ نے تین مرتبہ یہی فرمایا۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اللہ کی قسم! ہمیں آسمان پر بادل تو کیا بادل کا ٹکڑا بھی نظر نہیں آ رہا تھا، جبکہ ہمارے اور سلع پہاڑ کے درمیان کوئی گھر وغیرہ بھی نہیں تھا (کہ بادل ہم سے چھپے)۔ راوی کہتے ہیں کہ سلع کے پیچھے سے ڈھال کی طرح بادل نمودار ہوئے، جب آسمان کے وسط میں آئے تو پھیل گئے اور بارش برسائی۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اللہ کی قسم! ہم نے پورے چھ دن سورج نہ دیکھا۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: پھر وہی شخص آئندہ جمعے اسی دروازے سے داخل ہوا اور رسول اللہ ﷺ کھڑے خطبہ دے رہے تھے، وہ آپ ﷺ کی طرف متوجہ ہوا اور کہنے لگا: ”اے اللہ کے رسول! اموال ہلاک ہوگئے اور راستے منقطع ہو چکے، اللہ سے دعا کیجیے اس بارش کو ہم سے روک دے۔“ تو آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ اٹھائے اور فرمایا: «اللَّهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلَا عَلَيْنَا، اللَّهُمَّ عَلَى الْآكَامِ وَالْجِبَالِ وَالْآجَامِ وَالظِّرَابِ وَالْأَوْدِيَةِ وَمَنَابِتِ الشَّجَرِ» ”اے اللہ! اب ہم پر نہیں بلکہ ہمارے ارد گرد برسا۔ اے اللہ! انہیں ٹیلوں، پہاڑوں، جوہڑوں، وادیوں اور درختوں کی جڑوں میں برسا۔“ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: بادل چھٹ گئے، ہم جب مسجد سے نکلے تو دھوپ میں چل رہے تھے۔ شریک کہتے ہیں: میں نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ وہ شخص پہلے ہی والا تھا؟ تو انہوں نے کہا: میں نہیں جانتا۔