السنن الكبرى للبيهقي
كتاب صلاة الاستسقاء— کتاب الاستسقائ
باب: الاستسقاء بغير صلاة ويوم الجمعة على المنبر باب: نماز کے بغیر اور جمعہ کے دن منبر پر (خطبے کے دوران) بارش کی دعا کرنے کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَيْمَانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ بِشْرٍ، ثنا الْمُعَافَى بْنُ عِمْرَانَ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ: " أَنَّ رَجُلًا اشْتَكَى إِلَى ⦗٤٩٤⦘ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَلَاكَ الْمَالِ، وَجَهْدَ الْعِيَالِ؛ قَالَ: فَدَعَا اللهَ فَسُقِيَ، وَلَمْ يَذْكُرْ أَنَّهُ حَوَّلَ رِدَاءَهُ، وَلَا اسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ بِشْرَانَ، وَفِيهِ مَعَ مَا مَضَى مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ اللهِ بْنِ زَيْدٍ، كَالدِّلَالَةِ عَلَى أَنَّ ذَلِكَ إِنَّمَا يُسَنُّ فِي خُطْبَةِ الِاسْتِسْقَاءِ دُونَ خُطْبَةِ الْجُمُعَةِ، وَاللهُ أَعْلَمُ.سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم ﷺ کے پاس شکایت کی کہ مال مویشی ہلاک ہوچکے ہیں اور اہل و عیال لا غرو کمزور ہوچکے ہیں۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ پھر آپ ﷺ نے اللہ سے دعا کی تو انہیں بارش دے دی گئی۔ انہوں نے چادر پلٹانے کا تذکرہ نہیں کیا اور نہ ہی قبلے کی طرف متوجہ ہونے کا۔
امام بخاری رحمہ اللہ نے اسے اپنی صحیح میں حسن بن بشر سے بیان کیا ہے، اور اس میں سیدنا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ کی گزشتہ حدیث کے ساتھ اس بات کی گویا دلیل ہے کہ یہ (چادر پلٹانا اور قبلہ رخ ہونا) صرف استسقاء کے خطبے میں مسنون ہے، جمعہ کے خطبے میں نہیں۔ واللہ اعلم۔