حدیث نمبر: 6432
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُؤَمَّلِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ عِيسَى، ثنا عَبْدَانُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ يَعْنِي الْبَيْهَقِيَّ، ثنا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، نبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُوسَى، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ، أنبأ جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ فِي مَسْجِدِ الْخَيْفِ، قَالُوا: ثنا الْمُعْتَمِرُ هُوَ ابْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ هُوَ ابْنُ عُمَرَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فَقَامَ النَّاسُ فَصَاحُوا، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ قَحَطَ الْمَطَرُ، وَاحْمَرَّ الشَّجَرُ، وَهَلَكَتِ الْبَهَائِمُ، فَادْعُ اللهَ أَنْ يَسْقِيَنَا، فَقَالَ: " اللهُمَّ اسْقِنَا، اللهُمَّ اسْقِنَا " قَالَ: وَايْمُ اللهِ، مَا نَرَى فِي السَّمَاءِ قَزَعَةً مِنْ سَحَابٍ، فَأَنْشَأَتْ سَحَابَةٌ، فَانْتَشَرَتْ، ثُمَّ أَمْطَرَتْ، وَنَزَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى وَانْصَرَفَ، فَلَمْ تَزَلْ تُمْطِرُ إِلَى الْجُمُعَةِ الْأُخْرَى، فَلَمَّا قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ صَاحُوا فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ تَهَدَّمَتِ الْبُيُوتُ، وَانْقَطَعَتِ السُّبُلُ، فَادْعُ اللهَ أَنْ يَحْبِسَهَا عَنَّا، فَتَبَسَّمَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ: " اللهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلَا عَلَيْنَا " فَتَقَشَّعَتْ عَنِ الْمَدِينَةِ، فَجَعَلَتْ تُمْطِرُ حَوْلَهَا، وَمَا تُمْطِرُ بِالْمَدِينَةِ قَطْرَةً، فَنَظَرْتُ إِلَى الْمَدِينَةِ كَأَنَّهَا لَفِي مِثْلِ الْإِكْلِيلِ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيِّ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْهُ وَعَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى بْنِ حَمَّادٍ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ جمعے کے دن خطبہ دے رہے تھے کہ لوگ کھڑے ہو کر چیخنے لگے کہ اے اللہ کے رسول! بارش کا قحط ہے اور درخت زرد پڑ گئے ہیں اور چوپائے ہلاک ہو رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجیے کہ وہ ہمیں بارش پلائے تو آپ ﷺ نے دعا کی اور فرمایا: «اللّٰهُمَّ اسْقِنَا، اللّٰهُمَّ اسْقِنَا» ”اے اللہ! تو ہمیں پلا، اے اللہ! تو ہمیں پلا۔“ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اللہ کی قسم! ہم آسمان میں بادل کا کوئی ٹکڑا نہیں دیکھ رہے تھے مگر اچانک بادل پیدا کر دیے گئے اور پھیلا دیے گئے اور وہ برس پڑے۔ آپ رسول ﷺ منبر سے اترے اور نماز پڑھی اور پھر گئے مگر بارش پورا ہفتہ جاری رہی۔ پھر جب نبی کریم ﷺ خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے تو لوگ چیخنے لگے کہ اے اللہ کے رسول! گھر گر پڑے، راستے کٹ گئے ہیں۔ سو اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ اس کو ہم سے روک لے تو آپ ﷺ مسکرا دیے اور التجا کی: «اللّٰهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلَا عَلَيْنَا» ”اے اللہ! ہم پر نہیں مگر ہمارے ارد گرد۔“ مدینے سے بادل چھٹ گئے اور ارد گرد برسنا شروع ہو گئے مگر مدینے پر نہیں برس رہے تھے حتیٰ کہ قطرہ بھی، گویا کہ وہ ایک وادی کی مانند ہیں (جو اطراف میں تھے)۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب صلاة الاستسقاء / حدیث: 6432
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ البخاري»